رام، جانکی اور ہنومان پر متنازع تبصرہ کرنے پر راجیہ سبھا میں ہنگامہ

Jul 19, 2017 06:21 PM IST | Updated on: Jul 19, 2017 06:21 PM IST

نئی دہلی۔  بھگوان رام، جانکی اور ہنومان کو شراب سے جوڑنے کے سماج وادی پارٹی کے لیڈر نریش اگروال کے بیان پر آج راجیہ سبھا میں حزب اقتدار نے جم کر ہنگامہ کیا جس کے سبب ایوان کی کارروائی دو بار ملتوی کرنی پڑی۔ مسٹر اگروال نے ایوان میں ’ہجوم کے ذریعہ پیٹ پیٹ کر قتل کئے جانے کے معاملے‘ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے رام جنم بھومی تحریک کا ذکر کیا اور بھگوان رام، جانکی اور ہنومان کو شراب (الکوحل)سے جوڑتےہوئے ایک نظم پڑھی۔ اس کی حزب اقتدار کے اراکین نے زبردست مخالفت کی اور ڈپٹی چیئرمین پی جے کوریئن سے اسے ایوان کی کارروائی سے نکالنے کا مطالبہ کرتے ہوئے مسٹر اگروال سے معافی مانگنے کو کہا۔

مسٹر کوریئن نے کہا کہ وہ اس معاملے کا جائزہ لیں گے اور اگر قابل اعتراض ہوا تو اسے ایوان کی کارروائی سے نکال دیں گے۔ اس کے جواب میں ایوان کے لیڈر ارون جیٹلی نے کہا کہ سماج وادی پارٹی نے ہندو دیوی دیوتاؤں کو الکحل سے جوڑتے ہوئے قابل اعتراض اور اکثریتی طبقہ کے جذبات کو مجروح کرنے والا بیان دیا ہے۔ انہیں یہاں ایوان اور آئین کا تحفظ حاصل ہے۔ اگر انہوں نے یہ تبصرہ ایوان سے باہر کیا ہوتا تو ان پر مقدمہ درج کرایا جاتا۔

رام، جانکی اور ہنومان پر متنازع تبصرہ کرنے پر راجیہ سبھا میں ہنگامہ

پارلیمانی امور کے وزیر اننت کمار نے کہا کہ مسٹر اگروال نے اکثریتی طبقہ کی توہین کی ہے۔ پورے ملک کو گالی دی ہے۔ یہ ایک سنگین معاملہ ہے۔ انہیں اس کیلئے معافی مانگنی چاہئے۔

دریں اثنا حزب اقتدار کے اراکین ’شری رام کا اپمان، نہیں سہے گا ہندستان‘ کے نعرے لگاتے ہوئے اپنی اپنی جگہوں پر کھڑے ہوگئے۔ اس پر ڈپٹی چیئرمین نے کہا کہ اس معاملے پر غور کریں گے اور قابل اعتراض ہونے پر کارروائی سے نکال دیں گے۔ مسٹر کمار نے کہا کہ اس معاملے پر غور کرنے تک ایوان کی کارروائی ملتوی کی جائے۔ اس کے بعد مسٹر کوریئن نے ایوان کی کارروائی 10منٹ کیلئے ملتوی کر دی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز