حضرت نظام الدین اولیاء کی حضرت مائی صاحبہ کے 780 ویں عرس کا آغاز

Feb 28, 2017 11:14 AM IST | Updated on: Feb 28, 2017 11:15 AM IST

نئی دہلی۔  دہلی کے ادھچنی علاقے میں مائی صاحبہ کا 780 وا ں تین روزہ عرس کا بڑے ہی احترام اور خلوص کے ساتھ آغاز ہوا ۔اربندو مارگ واقع مشہور ادھچنی بازار کی دکانوں کے پیچھے چھپی یہ درگاہ 780 سال پرانی ہے ۔ اپنے ہی گھر میں آرام فرما رہی حضرت مائی صاحبہ کی وفات 1250 میں ہوئی تھی۔ بی بی  زلیخہ کے والدین بخارا میں منگول حملوں کے بعد ہندوستان پہنچے تھے۔ بی بی زلیخہ نے یہیں خواجہ سید حمد سے شادی كی۔ انكے والدین بھی وسط ایشیا سے تھے۔ كچھ سال بعد بی بی  زلیخہ  اپنے بچوں کے ساتھ دہلی آ گئیں ۔ دہلی میں ان کا خاندان بہت غربت میں رہتا تھا ۔ كبھی کبھی دن میں کھانے کے لیے بھی نہیں ہوتا تھا۔ یہ بی بی زلیخہ اور کوئی نہیں بلکہ 14 ویں صدی کے مشہور صوفی سنت حضرت نظام الدین اولیاء کی ماں ہیں۔ پرانے وقت میں اس درگاہ کے ارد گرد کے علاقے میں کھیت ہوا کرتے تھے اور یہ درگاہ مہرولی سے دکھائی دیا کرتی تھی۔ یہ سرائے کے طور پر بھی جانی جاتی تھی ۔ یہاں پر آنے کے لیے لوگ  بیل گاڑی کا استعمال کیا کرتے تھے اور یہ درگاہ ایک ستارے کی طرح چمکا کرتی تھی جسے دور سے ہی دیکھا جا سکتا تھا۔

عرس کے موقع پر درگاہ کو گلاب کے پھولوں سے سجایا گیا ہے اور دنیا بھر سےقوال اس عرس میں شامل ہونے آئے ہیں۔ مائی صاحبہ کا اس سال 780 واںعرس ہے۔ یہ عرس تین دن تک چلے گا۔ اس عرس کا آغاز فاتحہ خوانی سے کیا گیا ۔ اس کے  بعد ملک میں امن و سکون کے لئے دعا کی گئی۔ اس درگاہ پر تمام مذہب کے لوگ شامل ہوتے ہیں۔ ان کا عقیدہ ہے کہ یہاں جوآپ مانگتے ہیں ۔ وہ مراد جلد پوری کردی جاتی ہے۔ پہلے دن کی چادر حضرت خواجہ قطب الدين بختیار کاکی کےمزار سے آئی ۔ 27 فروری یعنی دوسرے دن شیخ نجیب الدين متاوكل کے یہاں ہوتے ہوئے مائی صاحبہ کی درگاہ پر چادر لائی جائے گی ۔ رات بھر قوالی ہوگی اور اس عرس کا اختتام منگل کو قل شریف پر ہوگا۔

حضرت نظام الدین اولیاء کی حضرت مائی صاحبہ کے 780 ویں عرس کا آغاز

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز