انتخابی نشان سائیکل پر بحث مکمل ، الیکشن کمیشن کا فیصلہ محفوظ ، پیر کو آنے کا امکان

Jan 13, 2017 12:12 PM IST | Updated on: Jan 13, 2017 08:56 PM IST

نئی دہلی: اترپردیش میں حکمراں سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے نام اور انتخابی نشان 'سائیکل پر پارٹی کے دونوں دھڑوں کے دعووں پر الیکشن کمیشن نے آج سماعت مکمل کر لی ۔ فیصلہ پیر کوسامنے آئے گا۔ اکھلیش دھڑے کے وکیل کپل سبل نے تقریبا پانچ گھنٹے کی سماعت کے بعد یہاں نرواچن بھون کے باہر نامہ نگاروں کو بتایا کہ سماعت مکمل ہو گئی ہے اور الیکشن کمیشن نے اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ کمیشن پیر کو اپنا فیصلہ سنائے گا۔

انهوےنے کہا کہ دونوں گروہوں نے کمیشن کو فیصلہ قبول کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ان کے مطابق سماعت کے دوران اکھلیش گروہ نے اپنا موقف رکھتے ہوئے کہا کہ سماج وادی پارٹی کے 90 فیصد سے زیادہ ایم پی، رکن اسمبلی اور عہدیدار اتر پردیش کے وزیر اعلی اکھلیش یادو کے ساتھ ہیں اس لئے پارٹی کا نام اور انتخابی نشان 'سائیکل انہیں ہی ملنا چاہئے۔ اکھلیش گروہ نے کمیشن کے پاس 200 سے زیادہ ممبران اسمبلی، ارکان پارلیمنٹ اور قانون ساز کونسل کے ارکان کے حلف نامے سونپے ہیں۔ اس کے علاوہ پارٹی کے مختلف سطح کے چھ ہزار سے زیادہ عہدیداروں کے حلف نامے بھی کمیشن کو دیئے گئے ہیں۔

انتخابی نشان سائیکل پر بحث مکمل ، الیکشن کمیشن کا فیصلہ محفوظ ، پیر کو آنے کا امکان

سماعت کے بعد ملائم دھڑے کے ایک وکیل گوری نیولیكر نے کہا کہ کمیشن کو ان کی جانب سے بتایا گیا کہ مسٹر ملائم سنگھ یادو پارٹی کے صدر اورسپریم لیڈر ہیں۔ ان کے مطابق مسٹر ملائم سنگھ یادو نے کہا کہ جس کانفرنس میں انہیں صدر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا، وہ غیر آئینی اور غیر قانونی تھا۔ اس لئے پارٹی کے نام اور انتخابی نشان کے حقیقی حقدار وہی ہیں۔ ملائم دھڑے کے وکلاء کی قیادت مسٹر موهن پاراسرن اور مسٹر هری هرن کر رہے تھے۔

ملائم سنگھ یادو اور ان کے بیٹے اکھلیش یادو کے درمیان ایس پی کے نام اور انتخابی نشان 'سائیکل پر دعویداری کی لڑائی میں آج دونوں دھڑے کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔ تقریبا 12 بجے شروع ہونیوالی اس سماعت میں اکھلیش گروہ نے تین بجے تک اپنا موقف رکھا۔ اکھلیش گروہ کی جانب سے راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ رام گوپال یادو، نریش اگروال اور نیرج شیکھر اور كرمي نندا موجود تھے. تین بجے کے بعد ملائم گروہ کی جانب سے خود مسٹر ملائم سنگھ یادو اور مسٹر شیو پال یادو پیش هوئے۔ مسٹر ملائم سنگھ یادو کے قریبی مانے جانے والے راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ امر سنگھ سماعت کے دوران موجود نہیں تھے۔

گزشتہ کئی مہینوں سے سماج وادی پارٹی میں بالادستی کی جنگ جاری ہے اور پارٹی دو دھڑوں میں بٹ گئی ہے. ایک گروہ کی قیادت مسٹر ملائم سنگھ یادو کر رہے ہیں اور ان کے ساتھ سینئر لیڈر شوپال یادو اور راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ امر سنگھ ہیں. دوسرے گروہ کا قیادت ریاست کے وزیر اعلی اکھلیش یادو کے ہاتھ میں ہیں اور ان کے ساتھ راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ رام گوپال یادو، نریش اگروال اور نیرج شیکھر اور كرمي نندا جیسے سینئر لیڈر ہیں۔ دونوں دھڑوں نے پارٹی کے نام اور انتخابی نشان پراپنا حق جتاتے ہوئے الیکشن کمیشن کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ کمیشن دونوں دھڑوں سے اس بارے میں حلف نامے لے چکا ہے۔

دریں اثنا، مسٹر ملائم سنگھ یادو نے راجیہ سبھا کے چیئرمین محمد حامد انصاری کو خط لکھ کر مسٹر رام گوپال یادو کو ایوان میں سماج وادی پارٹی کے لیڈر کے عہدے سے ہٹانے کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر رام گوپال یادوکو پارٹی سے نکال دیا گیا ہے۔ مسٹر ملائم سنگھ یادو کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کی قیادت میں لکھنؤ میں بلایا گیا ایس پی کا ہنگامی قومی اجلاس غیر قانونی تھا۔ اس اجلاس میں مسٹر ملائم سنگھ یادو کو سماج وادی پارٹی کے قومی صدر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

الیکشن کمیشن کو 17 جنوری سے پہلے ایس پی کے نام اور انتخابی نشان 'سائیکل کے بارے میں کوئی فیصلہ لینا ہے کیونکہ اتر پردیش اسمبلی کے پہلے مرحلے کے انتخابات کے لئے 17 جنوری کو ہی نوٹیفکیشن جاری ہونا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن پارٹی کےنام اور انتخابی نشان پر قبضہ کر سکتا ہے. عام طور پر ایسے معاملات نپٹانے میں چھ ماہ کا وقت لگ جاتا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز