حکومت بدلی، کارروائی کا پیمانہ بھی بدلا، بی جے پی ایم ایل اے پر درج کیس واپس ہو گا

Oct 11, 2017 03:57 PM IST | Updated on: Oct 11, 2017 03:57 PM IST

دہرادون۔ اتراکھنڈ پولیس سروس میں تعینات گھوڑے شکتی مان کی موت کا معاملہ ایک بار پھر چرچا میں ہے۔ نہ صرف چرچا بلکہ اب تو اس کے بارے میں کئی سنگین سوالات کھڑے ہو رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا حکومت بدلتے ہی کارروائی کا پیمانہ بھی بدل جاتا ہے اور کیا پولیس بھی حکومت کے اشارے پر کام کرتی ہے۔

یہ سوال اس لئے اٹھ رہے ہیں کیونکہ بی جے پی رکن اسمبلی گنیش جوشی پر درج کیس کو واپس لینے کا حکومت نے فیصلہ کیا ہے۔ مارچ 2016 میں بی جے پی کے احتجاج کے دوران پولیس ڈیوٹی میں تعینات گھوڑے شکتی مان کی موت سے متعلق تحقیقات پر پولیس اب مٹی ڈال دے گی۔ اتراکھنڈ کے ہوم ڈپارٹمنٹ نے ایم ایل اے گنیش جوشی پر درج کیس کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ واضح ہے کہ حکومت اب یہ نہیں چاہتی کہ ایم ایل اے گنیش جوشی پر کوئی کارروائی ہو۔

حکومت بدلی، کارروائی کا پیمانہ بھی بدلا، بی جے پی ایم ایل اے پر درج کیس واپس ہو گا

پچھلی حکومت میں اسمبلی کے گھیراو کے دوران رسپنا چوراہے پر بی جے پی کارکنوں اور پولیس کے بیچ دھکا مکی ہوئی تھی۔ اسی دوران شکتی مان کو بھی چوٹ پہنچی تھی اور گنیش جوشی کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا جس میں وہ شکتی مان کو لاٹھی مارتے ہوئے نظر آ رہے تھے۔

اس دوران لاٹھی مارے جانے سے شکتی مان کا پیر فریکچر ہو گیا تھا۔ کئی دن تک شکتی مان کا علاج ہوا اور جان بچانے کے لئے اس کا پیر بھی کاٹنا پڑا تھا۔ غیر ملکی ڈاکٹروں نے مصنوعی پیر بھی لگائے لیکن بالآخر بیس مارچ دو ہزار سولہ کو شکتی مان کی موت ہو گئی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز