بی ایچ یو میں طالبات پر لاٹھی چارج کے بعد احاطہ میں کشیدگی ، پولیس چھاونی میں تبدیل ہوا کیمپس

بنارس ہندو یونیورسٹی (بی ایچ یو) میں چھیڑخانی کے خلاف طالبات کے احتجاجی مظاہرہ کے دوران گزشتہ رات جم کر پرتشدد واقعات ہوئے جس میں تحریک کرنے والی متعدد طالبات اور پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔

Sep 24, 2017 12:53 PM IST | Updated on: Sep 24, 2017 12:53 PM IST

وارانسی: بنارس ہندو یونیورسٹی (بی ایچ یو) میں چھیڑخانی کے خلاف طالبات کے احتجاجی مظاہرہ کے دوران گزشتہ رات جم کر پرتشدد واقعات ہوئے جس میں تحریک کرنے والی متعدد طالبات اور پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔ پولیس ذرائع نے آج یہاں بتایا کہ بی ایچ یو احاطے میں حالات کشیدہ لیکن کنٹرول میں ہے۔ پولیس کی ایک بڑی تعداد وہاں تعینات کی گئی ہے۔ یونیورسٹی کی کیمپس میں آنے جانے والوں پر نگرانی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بی ایچ یو کے مرکزی دروازے پر چھیڑخانی کی مخالفت میں گزشتہ دو دنوں سے دھرنے پر بیٹھیں طالبات رات اچانک مشتعل ہو گئیں۔ مشتعل ہجوم میں شامل کچھ شرارتی عناصر نے کئی گاڑیوں کو آگ کے حوالے کر دیا، جس سے حالات بے قابو ہونے لگے۔

اس دوران پولیس پر پتھراؤ کیا گیا اوربی ایچ یو احاطے میں کئی جگہ توڑ پھوڑ کی گئی۔ پولیس کو صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لئے طاقت کا استعمال کرنا پڑا۔ اس واقعہ میں بہت سے طلباء اور پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ شرارتی عناصر کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ ادھر، طلباء و طالبات نے بتایا کہ 18 سے زائد طلباء زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کا علاج بی ایچ یو کے ٹراما سینٹر میں چل رہا ہے، جبکہ کئی زخمیوں کو ابتدائی طبی معالجے کے بعد ہسپتال سے چھٹی دے دی گئی ہے۔ پولیس افسر نے بتایا کہ یونیورسٹی کیمپس میں حالت قابو میں ہیں، لیکن احتیاطا سکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔ پولیس کے اعلی حکام صورتحال پر نظر ررکھ رہے ہیں ۔

بی ایچ یو میں طالبات پر لاٹھی چارج کے بعد احاطہ میں کشیدگی ، پولیس چھاونی میں تبدیل ہوا کیمپس

یونیورسٹی کےانفارمیشن اور پبلک ریلیشنز آفیسر ڈاکٹر راجش سنگھ کہتے ہیں کہ شرپسند عناصر نے سیاسی وجوہات کی وجہ سے پرتشدد واقعات کو انجام دیا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے علاوہ پولیس پورے معاملات کی تحقیقات کر رہی ہے۔ عینی شاہدین نے کہا کہ گزشتہ شام طالبات نے وائس چانسلر پروفیسر گریش چندرترپاٹھی سے ملاقات کی تھی اور ان سے گفتگو بھی کی تھی لیکن ملاقات سودمند نہیں رہنے کی وجہ سے وہ ناراض ہو گئیں ۔طالبات کا مطالبہ تھا کہ پروفیسر ترپاٹھی دھرنے کے مقام پر ان سے بات چیت کریں۔ یونیوسٹی انتظامیہ نے سیکورٹی وجوہات کے پیش نظر ان کے اس مطالبے کو خارج کر دیا۔ لیکن بھاری دباؤ کے بعد وائس چانسلر اپنی رہائش گاہ کے قریب واقع تروینی ہاسٹل کے قریب طالبات سے ملاقات کرنے جا رہے تھے۔ اس دوران، طلباءکی بھیڑ میں شامل چند شرپسند عناصر نے ان کے خلاف نعرہ بازی اور دھکا مکی شروع کردی جس سے وائس چانسلر ناراض ہوگئے اور اپنی رہائش گاہ واپس چلے گئے۔

بعد ازاں، دھرنے پر بیٹھیں طالبات کے ساتھ طلبہ بھی ان کی حمایت میں آگئے اور وی سی کی رہائش گاہ کا گھیراؤکرنے کے لئے ان کا ساتھ دینے کی کوشش کی۔طلبہ کو بی ایچ یو کے سیکورٹی گارڈوں نے راستے میں ہی روکنے کی کوشش کی ، لیکن وہ نہیں مانے ۔ اس کے بعد پولیس اور تحریک کررہے طلبہ وطالبات کے درمیان پرتشدد جھڑپ شروع ہوگئیں۔

عینی شاہدین نے کہا کہ پولیس نے تقریبا 40 راؤنڈ ہوائی فائرنگ کی۔ پولیس کارروائی سے ناراض بڑی تعداد میں طلباء و طالبات ہاسٹل سے نکل کر یونیورسٹی کیمپس کی سڑکوں پر آ گئے اور مظاہرہ کرنے لگے۔ پولیس اہلکاروں کا الزام ہے کہ طلبہ نے انہیں نشانہ بناکر پتھروں اور پٹرول بم سے حملہ کیا جس میں متعدد سیکورٹی اہلکار زخمی ہو گئے۔ دوسری جانب مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ امن مظاہرہ کررہے تھے اور وہ وائس چانسلر سے ملاقات کے لئے ان کی رہائش گاہ پر جا رہے تھے۔ اسی دوران بی ایچ یو کے سیکیورٹی اہلکاروں نے ان پر بے رحمی سے لاٹھی چارج کیا جس کے کئی طلبہ وطالبات زخمی ہوئیں ۔

bhu hangama

چھیڑ خانی کے خلاف سر منڈواكر دھرنے پر بیٹھی بی ایچ یو طالبہ آكانشا سنگھ سمیت کئی طالبات کا الزام ہے کہ یونیورسٹی کیمپس میں طالبات کے ساتھ اکثر چھیڑ خانی کے واقعات ہوتے رہتے ےہیں، لیکن شکایت کے بعد بھی کوئی کارروائی نہیں کی جاتی ہے۔ محترمہ سنگھ کا کہنا ہے کہ وائس چانسلر کی رہائش گاہ سے چند قدموں کے فاصلے پر گزشتہ جمعرات کی شام بھی ایک طالبہ کے ساتھ چھیڑ خانی کی گئی۔ اس معاملے کی یونیورسٹی انتظامیہ سے شکایت کی گئی لیکن قصورواروں کے خلاف کارروائی کرنے کی بجائے، حکام نے طالبات کو شام میں ہاسٹل سے باہر نہیں نکلنے کی نصیحت کی۔ وہ کہتی ہیں کہ اس معاملے میں کئی مرتبہ پراکٹر سے بھی شکایت کی گئی، لیکن انہوں نے بھی اسی طرح کی نصیحت کر کے معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے اس رویے سے طالبات پریشان ہیں اور وہ خود کو غیر محفوظ تصور کرتی ہیں۔

اس سے پہلے تحریک طالبات نے یونیورسٹی انتظامیہ پر الزام لگایا تھا کہ دھرنا کارکردگی میں جانے سے روکنے کے لئے کل تروینی پیکجوں چھاترالی کو باہر سے بند کر دیا گیا تھا. واضح رہے کہ طالبات کے مظاہرے کی وجہ سے22 ستمبر کی دیر شام وزیر اعظم نریندر مودی کے پروگرام کے لئے پہلے سے ہی طے شدہ راستوں کو تبدیل کرنا پڑا تھا۔ مسٹر مودی کو اسی راستے سے درگاکنڈ مندر اور تلسی مانس مندر میں پوجا ودیگر پروگراموں میں شرکت کے لئے جانا تھا جسے عین وقت پر تبدیل کرنا پڑا۔بی ایچ یو طالبات کا احتجاجی مظاہرہ اسی دن سے چل رہا ہے۔ اس سے ایک دن پہلے انہوں نے سیکورٹی کے مطالبے پر رات میں مظاہرہ و ہنگامہ کیا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز