عصمت فروشی پر مجبور خواتین کی وزیر اعظم مودی سے باز آبادکاری کی فریاد

وارانسی۔ اترپردیش کی کاشی نگری وارانسی میں عصمت فروشی پر مجبور بہت سی خواتین نے مقامی ممبر پارلیمنٹ اور وزیر اعظم نریندر مودی سے اپنے گاؤں شیوداس پور کو گود لینے اور اس کی باز آبادی کی فریاد کی ہے۔

Dec 06, 2017 01:25 PM IST | Updated on: Dec 06, 2017 01:25 PM IST

وارانسی۔ اترپردیش کی کاشی نگری وارانسی میں عصمت فروشی پر مجبور بہت سی خواتین نے مقامی ممبر پارلیمنٹ اور وزیر اعظم نریندر مودی سے اپنے گاؤں شیوداس پور کو گود لینے اور اس کی باز آبادی کی فریاد کی ہے۔ ان خواتین کا کہنا ہے کہ وہ سماجی اور سرکاری طور پرنظرانداز کئے جانے کے شکار ہیں، جس سے چاہ کر بھی’تاریک دنیا‘ سے نہیں نکل پا رہی ہیں۔  وہ اپنی اگلی نسل کو سماج کے مرکزی دھارے میں لانا چاہتی ہیں، لیکن بدقسمتی سے حالات ایسے نہیں ہو پارہے ہیں۔

شہر کے منڈواڈیہہ علاقے سے متصل اس گاؤں کے ایک ’بدنام‘ حصے میں رہ رہیں بہت سی خواتین نے اپنے گھروں میں دیوی دیوتاؤں کے ساتھ ساتھ بابائے قوم مہاتما گاندھی اور مسٹر مودی کی تصاویر لگا رکھی ہیں۔ تقریبا 45 سال کی روبي (بدلا ہوا نام) کہتی ہے-’’مجھے مسٹر مودی کی تقریر بہت اچھی لگتی ہے۔ ان سے متاثر ہو کر لوک سبھا انتخابات میں انہیں اپنا ووٹ دیا تھا، لیکن ساڑھے تین سالوں میں ان کا کچھ نہیں بدلا۔ وہ پہلے کی طرح ہی جہنمی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں‘‘۔ روبی کی باتوں کی حمایت کرتے ہوئی پڑوس میں رہنے والی 50 سالہ سریتا (بدلا ہوا نام) کہتی ہیں، "وزیر اعظم نے وارانسی میں ہزاروں کروڑ روپے کے ترقیاتی کاموں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھا، لیکن ان کی باز آبادکاری کے لئے ایک بھی منصوبہ شروع نہیں ہوا جس کی وجہ سے وہ ٹھگا ہوا محسوس کر رہی ہیں‘‘۔

عصمت فروشی پر مجبور خواتین کی وزیر اعظم مودی سے باز آبادکاری کی فریاد

شہر کے منڈواڈیہہ علاقے سے متصل اس گاؤں کے ایک ’بدنام‘ حصے میں رہ رہیں بہت سی خواتین نے اپنے گھروں میں دیوی دیوتاؤں کے ساتھ ساتھ بابائے قوم مہاتما گاندھی اور مسٹر مودی کی تصاویر لگا رکھی ہیں۔

روبي اور سریتا کے باتوں کی حمایت کرنے والی یہاں بہت سی خواتین کا کہنا ہے کہ وقتاً فوقتاً اخبارات اور ٹی وی میں اپنے گاؤں کی ترقی کی بات سنتی ہیں، لیکن ان کی مدد کرنے کوئی نہیں آتا ہے۔ روبي نے بتایا کہ ان کی دو بیٹیاں ہیں، جسے وہ معاشرے کے مرکزی دھارے میں لانا چاہتی ہیں۔ اس کے لئے وہ ایک قریبی انسٹی ٹیوٹ میں سلائی کی ٹریننگ دلوا رہی ہیں۔ بہت سی خواتین ان کی طرح اپنی بیٹیوں کو اسی طرح ووکیشنل ٹریننگ کروا رہی ہیں۔ لیکن انہیں فکر ستا رہی ہے کہ ٹریننگ کے بعد سماج کی جانب سے نظر انداز کئے جانے کے سبب لڑكيوں کو کام ملے گا یا نہیں۔ ان کے ساتھ بہت سی خواتین نے مسٹر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے گاؤں کو وہ خود گود لے لیں اور ان کی باز آبادی کاری طریقے سے کی جائے تاکہ وہ وقت پر مکمل ہوجائے اور ان کے مسائل کو سرکاری حکام کو حقیقی طور پر توجہ مل سکے۔

بچوں کی جسم فروشی کے خلاف طویل عرصہ سے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم’ گڑیا سوئم سیوک سنستھان‘کے سربراہ اجیت سنگھ کا کہنا ہے کہ یہاں کی بچیوں کو معاشرے کے مرکزی دھارے میں لانے کے لئے ان کی تنظیم اپنی سطح پر کوشش کر رہی ہے۔ تقریباً 100 لڑکیاں ان کی تنظیم کی طرف سے چلائی جارہی انسٹی ٹیوٹ میں مختلف قسم کے ووکیشنل كورسزمیں رجسٹرڈ ہیں اور ان میں سے 70-80 باقاعدگی کے ساتھ پڑھائی کرنے آتی ہیں۔

Loading...

ان کا دعوی ہے کہ تقریبا ایک دہائی کی کوششوں سے یہاں بچیوں کی جسم فروشی میں کافی کمی آئی ہے اور اب ان کی کوشش ہے کہ عصمت فروشی کرنے پر مجبور خواتین کی بچیوں کے لئے تعلیم کامناسب ا نتظام ہوجائے تاکہ اگلی نسل جسم فروشی کے دلدل میں پھنسنے کو مجبور نہ ہوں۔ مسٹر سنگھ کا بھی الزام ہے کہ سماجی طور پر نظر انداز کئے جانے کے ساتھ ساتھ سرکار سے نظراندازکئے جانے کی وجہ  بچیوں کو بچانا ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہاں کچھ سال پہلے تک بچیوں کی جسم فروشی بڑے پیمانے پر ہوتی تھی،لیکن اس کے خلاف مسلسل تحریک اور قانونی جنگ کے بعد صورتحال کافی حد تک بدل گئی ہے۔ اب کھلے عام یہ قبیح دھندے نہیں ہوتے ہیں، لیکن کبھی کبھی چوری چھپے دھندہ ہونے کی خبریں سننے کو ملتی رہتی ہیں۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز