رام مندر کی تعمیر کو لے کر وشو ہندو پریشد اوراکھل بھارتیہ اکھا ڑا پریشد میں ٹکراو

اترپردیش میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کو لے کر طرح طرح کے بیانات سامنے آ رہے ہیں ۔

Apr 06, 2017 10:36 PM IST | Updated on: Apr 06, 2017 10:36 PM IST

الہ آباد : اترپردیش میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کو لے کر طرح طرح کے بیانات سامنے آ رہے ہیں ۔ اس سلسلہ میں جہاں ایک طرف سے وی ایچ پی کا موقف دن بہ دن سخت ہوتا جا رہا ہے وہیں دوسری جانب اکھاڑا پریشد نے معتدل رخ اختیار کیا ہے ۔اکھاڑا پریشد کا کہنا ہے کہ اس معاملہ کو ہندو اور مسلمانوں کی آپسی رضا مندی سے ہی حل کیا جانا چاہئے۔

ایودھیا میں رام مندرکی تعمیر کو لے کر وشو ہندو پریشد اوراکھل بھارتیہ اکھا ڑا پریشد ایک دوسرے کے سامنے آ گئے ہیں ۔ وی ایچ پی سے تعلق رکھنے والے سوامی و اسو دیو انند کا کہنا ہے کہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر جلد ہی شروع کردی جائے گی ۔ وہیں دوسری جانب اکھا ڑا پریشد کے سربراہ مہنت نریندرگری نے کہا ہے کہ رام مندر کا معاملہ ہندو اور مسلمانوں کی آپسی رضا مندی سے طے ہونا چاہئے۔

رام مندر کی تعمیر کو لے کر وشو ہندو پریشد اوراکھل بھارتیہ اکھا ڑا پریشد میں ٹکراو

رام نومی کے موقع پر وی ایچ پی کے خیمے کی طرف سے بڑا بیان سامنے آیا ۔ وی ایچ پی کی رام مندر تحریک سے وابستہ سخت گیر موقف کے حامل سوامی واسو دیوا نند نے کہا کہ مستقبل قریب میں ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر شروع کردی جائے گی ۔ یہی نہیں انہوں نے سوال کیا کہ رام مندر کی تعمیراگر ایودھیا میں نہیں ہوگی تو کیا سعودی عرب میں ہوگی؟

لیکن ایودھیا میں رام مندر کی تعمیرکے معاملہ میں اکھاڑا پریشد کے سربراہ مہنت نریندرگری کا کہنا ہے کہ رام مندر کا معاملہ فریقین کی آپسی رضا مندی سے طے ہونا چاہئے ۔ مہنت نریندر گری نے یہ بھی کہا ہے کی اس معاملہ میں کسی بھی فریق کے ساتھ بھی کسی بھی قسم کی زور زبردستی مناسب نہیں ہے ۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز