اجودھیا کے مسئلہ پر مسلمانوں کے ساتھ بات چیت کی کوئی ضرورت نہیں:وی ایچ پی سابق صدر وشنو ہری ڈالمیا

وشوہندوپریشد کے سابق صدر وشنو ہری ڈالمیا نے بابری مسجد کے معاملہ پر مسلمانوں کے ساتھ پھر سے مذاکرات شروع کرنے کی مخالفت کی ہے

May 10, 2017 02:50 PM IST | Updated on: May 10, 2017 02:52 PM IST

نئی دہلی : وشوہندوپریشد کے سابق صدر وشنو ہری ڈالمیا نے بابری مسجد کے معاملہ پر مسلمانوں کے ساتھ پھر سے مذاکرات شروع کرنے کی مخالفت کی ہے اورحکومت پر زور دیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ میں داخل کئے گئے حلف نامہ کے مطابق کارروائی کرے۔

مسٹر ڈالمیا نے دعوی کیا کہ الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنو برانچ نے اپنے فیصلہ میں مکمل تفتیش کے بعد یہ بات بالکل واضح کردی ہے کہ وہاں پہلے ایک مندر موجود تھا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم رہنما ایک وقت اس بات پر راضی ہوگئے تھے کہ اگر یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ بابری مسجد مندر کوگراکر تعمیر کی گئی تھی تو وہ اجودھیا کی اس زمین پر اپنا دعوی چھوڑ دیں گے۔

اجودھیا کے مسئلہ پر مسلمانوں کے ساتھ بات چیت کی کوئی ضرورت نہیں:وی ایچ پی سابق صدر وشنو ہری ڈالمیا

مسٹر ڈالمیا نے ایک بیان میں کہا کہ مسلمانوں کا یہ وعدہ اس وقت کی حکومت کی طرف سے جاری کئے گئے وائٹ پیپر میں بھی شامل ہے۔ اس لئے اب ان سے دوبارہ بات چیت شروع کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب سپریم کورٹ محض ہائی کورٹ کی اس غلطی کو درست کرنا ہے جس کے تحت اس نے زمین تینوں فریقوں میں تقسیم کردی تھی جب کہ اس کے سامنے یہ معاملہ تھا ہی نہیں۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز