پارلیمنٹ سے قانون کے ذریعہ رام مندر کی تعمیر کیلئے وی ایچ پی 5000 تحصیلوں اور تعلقہ میں سنکلپ آندولن کرے گی شروع

وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) نے سپریم کورٹ کی طرف سے بابری مسجد-رام جنم بھومی کا تنازعہ باہمی بات چیت حل کرنے کی تجویز کو درکنار کردیا۔

Mar 25, 2017 09:41 PM IST | Updated on: Mar 25, 2017 09:41 PM IST

نئی دہلی: وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) نے سپریم کورٹ کی طرف سے بابری مسجد-رام جنم بھومی کا تنازعہ باہمی بات چیت حل کرنے کی تجویز کو درکنار کرتے ہوئے آج کہا کہ حکومت کو اجودھیا میں رام مندر بنوانے کیلئے اب پارلیمنٹ سے قانون بنانے کی کوشش شروع کرنی چاہیے۔ وی ایچ پی نے اترپردیش اسمبلی الیکشن میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی اکثریتی جیت کو اپنے نظریات کی جیت قرار دیتے ہوئے رام مندر کی تعمیر کے لیے نئی تحریک کا بھی اعلان کیا۔ وی ایچ پی اس کیلئے ملک میں عوامی حمایت حاصل کرنے کے لئے موسم گرما میں تقریبا پانچ ہزار تحصیلوں / تعلقہ میں رام مندر کی تعمیر کا سنکلپ آندولن شروع کرے گا۔

وی ایچ پی کے بین الاقوامی ایگزیکٹو صدر ڈاکٹر پروین توگڑیا نے یہاں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ 2014 کے پارلیمانی الیکشن اور اب اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے نتائج سے ثابت ہوا ہے کہ ترقی اور ہندوتوا کی مخالفت اور ترقی و غیر ہندوتو کا دور ختم ہو چکا ہے اور ایک ہزار سال بعد 'ترقی + ہندوتوا کا دور شروع ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس دور میں ہمیں ترقی اور مندر دونوں چاہیے۔ہمیں کسانوں کی قرض معافی، نوجوانوں کو روزگار اور مندر کی تعمیر چاہیے۔

پارلیمنٹ سے قانون کے ذریعہ رام مندر کی تعمیر کیلئے وی ایچ پی 5000 تحصیلوں اور تعلقہ میں سنکلپ آندولن کرے گی شروع

پروین توگڑیا نے کہا کہ رام مندر بنانے کا صرف ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے پارلیمنٹ میں قانون بناکر آخری مہر لگائی جائے۔ جس طرح سے سردار پٹیل نے كنهيالال منشی اور صدر جمہوریہ راجندر پرساد کے ہاتھوں سومناتھ مندر بنوایا تھا، اسی طرح سے رام مندر بنے۔ انہوں نے کہاکہ وی ایچ پی آئین میں مکمل ایمان رکھتا ہے اور ہمارا موقف ہے کہ مندر کی تعمیرکا آئینی راستہ ہموار کیا جانا چاہیے۔ اتر پردیش کے انتخابات کے نتائج کو دیکھ کر دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی اپنی پالیسی میں تبدیلی کرنا چاہئے اور انہیں سمجھ لینا چاہیے کہ اکثریت کو نظر انداز کرکے چل نہیں پائیں گے۔

پروین توگڑیا نے کہا کہ انہیں وزیر اعظم مودی اور ان کی پارٹی پر مکمل اعتماد ہے کہ پختہ عزم رکھنے والے وزیر اعظم اور اتر پردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت پالن پور میں بی جے پی کی قومی مجلس عاملہ کی تجویز اور کروڑوں ہندوؤں کی خواہشات کے مطابق پارلیمنٹ میں قانون بناکر رام مندر کی تعمیر یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ وی ایچ پی 5000 سے زیادہ تحصیلوں اور تعلقہ میں سنکلپ آندولن کے پروگراموں کا انعقاد کرے گا جس سے حکومت کو پارلیمنٹ میں رام مندر کے حق میں قانون بنانے کا اختیار اور طاقت حاصل ہو سکے۔

Loading...

ایک سوال کے جواب میں انهوں نے کہا کہ وہ حکومت سے کوئی مطالبہ نہیں کر رہے ہیں اور نہ ہی دباؤ ڈال رہے ہیں۔ وزیر اعظم خود ذہین ہیں، ہمیں ان پر مکمل اعتماد ہیے کہ وہ یقینی طور پر کچھ کریں گے۔ ہم تو صرف اپنے جذبات کو عوام کے سامنے رکھ رہے ہیں۔ سپریم کورٹ کے باہمی بات چیت سے اس تناز‏عہ کو حل کرنے کی تجویز کے بارے میں بار بار پوچھے جانے پر بھی پروین توگڑیا نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ انہوں نے صرف اتنا کہا کہ رام مندر کی تعمیر کا ایک ہی راستہ باقی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے رامنومي کے موقع تین اپریل کو دہلی میں پروگرام ہوگا۔ رام لیلا میدان میں سمیلن کے بعد 40 جھانکیوں والی ایک شوبھاياترا نکالی جائے گی جو دریا گنج، گوري شنكر مندر، شيث گنج گرودوارہ، کھاری باولی، صدر بازار، بارہٹوٹي، قرول باغ تک جائے گی۔ رام لیلا میدان کے پروگرام میں مرکزی وزیر سیاحت و ثقافت ڈاکٹر مہیش شرما، وی ایچ پی کے جوائنٹ سکریٹری سریندر جین اور محترمہ کرن چوپڑا شامل ہوں گے۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز