رام جنم بھومی مندر کے لئے پارلیمنٹ میں تجویز پیش کی جائے: وشو ہندو پریشد

Sep 16, 2017 08:05 PM IST | Updated on: Sep 16, 2017 08:05 PM IST

نئی دہلی۔  وشو ہندو پریشد نے اجودھیا میں رام جنم بھومی مندر کی تعمیر کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کی طرف سے پارلیمنٹ میں تجویز پیس کرنے کی مانگ کی ہے۔ اندر پرستھ ہندو پریشد کے ذریعہ آج یہاں منعقدہ ایک سیمینار میں سوامی راگھوانند نے کہا کہ اجودھیا میں رام جنم بھومی مندر کی تعمیر کا کام عدالت اور تنظیموں پر نہیں چھوڑا جانا چاہئے بلکہ اس کے لئے تمام سیاسی جماعتیں مل کر پارلیمنٹ میں ایک قرار داد لائیں جس میں مندر کی تعمیر کا مطالبہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اجودھیا میں جب رام جنم بھومی مندر کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا تبھی پورے ہندوستان میں ایک نئی لہر پیدا ہوگی۔ سیمینار میں وی ایچ پی کے مرکزی جوائنٹ سکریٹری سریندر جین اور قومی ترجمان وجے شنکر تیواری اور پرسار بھارتی میں مشیر گیانیندر برتریا نے بھی اپنے اپنے خیالات پیش کئے۔

ڈاکٹر جین نے کہا کہ وی ایچ پی کا پورا یقین ہے کہ عظیم الشان رام مندر کی تعمیر کو اب مزید ٹالا نہیں جا سکے گا اور اگلے سال مندر ضرور بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے لئے بہت طویل تحریک چلائی گئی ہے اور یہ تب تک جاری رہے گی جب تک مندر بن نہیں جاتا ہے۔ ڈاکٹر جین نے کہا کہ سیکولر مافیا نے ہندو سماج کو ہر طرح سے تقسیم کرنے اور گمراہ کرنے کی کوشش کی لیکن رام جنم بھومی مندر کی تعمیر کے لئے وی ایچ پی کی تحریک نے ہندو سماج کو احساس کمتری سے نکال کر عزت نفس کے جذبہ پیدا کرنے کے ساتھ ہی قومی وقار او رعظیم شخصیات کی عزت کو بحال کیا ہے۔

رام جنم بھومی مندر کے لئے پارلیمنٹ میں تجویز پیش کی جائے: وشو ہندو پریشد

فائل فوٹو

انہوں نے کہا کہ جس دن اجودھیا میں عظیم الشان مندر تعمیر ہوگا اس دن ہندوستان عالمی رہنما بننے کی راہ پر گامزن ہوجائے گا۔ مسٹر برتریا نے کہا کہ کسی بھی ملک کے لئے ایک علامت کی ضرورت ہوتی ہے ہندوستان کی پوری زندگی کو ظاہر کرنے والی علامت بھگوان رام ہیں جسے رام جنم بھومی مندر کے لئے کی گئی تحریک نے دوبارہ زندہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اجودھیا میں متنازع جگہ پر مسجد تو بن نہیں سکتی ، وہاں مندر کی تعمیر ہی ہونی ہے تو اس میں کوئی دقت نہیں ہونی چاہئے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز