رام مندر کی تعمیر پر مصالحت کا اب کوئی جواز نہیں رہ گیا: وشوہندو پریشد

Nov 15, 2017 09:43 AM IST | Updated on: Nov 15, 2017 09:43 AM IST

ایودھیا۔ شیعہ سینٹرل وقف بورڈ، روحانی گرو شری شری روی شنكر اور چند دیگر مذہبی رہنماؤں کے ایودھیا تنازعہ کا صلح سمجھوتے سے حل نکالنے کی کوشش کے درمیان وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) نے کہا ہے کہ اب اس کا کوئی جواز نہیں رہ گیا ہے۔ وشو ہندو پریشد کے میڈیا انچارج شرد شرما نے یہاں وی ایچ پی ہیڈکوارٹر كارسیوك پورم میں "يواین آئی"سے کہا کہ شري رام جنم بھومی کے معاملے پر صلح سمجھوتے کی رٹ کو آثار قدیمہ سے ثبوت ملنے کے بعد اب کوئی باقی جواز نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کوثبوت چاہئے، جو مندر کے حق میں ہے۔اس کے بعد بات چیت کیسے اور کیوں ہو ؟

انہوں نے کہا کہ جو لوگ مصالحت کی بات کر رہے ہیں ان کے ہر پہلو پر وی ایچ پی کی نظر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایودھیا میں مندر تھا - مندر ہے اور مندر ہی رہے گا۔ اب صرف اس پر شاندار مندر کی تعمیر باقی ہے۔ آئندہ 16 نومبر کو ایودھیا آ رہے آرٹ آف لیونگ کے بانی شری شری روی شنکر کے سلسلے میں وشو ہندو پریشد نے کہا کہ سنت اور دھرماچاري (مذہبی گرو) مرکزی مارگ درشک منڈل کے اجلاسوں کے ذریعے کہتے آئے ہیں کہ ایودھیا کے کوائف کے پیش نظر مسجد کی تعمیر ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی طرف سے پیش کردہ تجاویز کے بعد مصالحت کرنے والوں کی تگ ودو کچھ زیادہ بڑھ گئی ہے لیکن کچھ ایسے عناصر ہیں جن کی اس تحریک میں کوئی شراکت نہیں ہے پھر بھی ایک فریق کے ساتھ صلح سمجھوتہ کرنے کی مہم چلا رہے ہیں۔

رام مندر کی تعمیر پر مصالحت کا اب کوئی جواز نہیں رہ گیا: وشوہندو پریشد

بابری مسجد، فائل فوٹو: گیٹی امیجیز

انہوں نے کہا کہ77 ایکڑ زمین پر مندر کی تعمیر کی جائے گی اور ہندو معاشرے کو اس کے علاوہ کچھ بھی قبول نہیں ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز