کشمیر کو فوج کے حوالے کرکے سنگبازوں پر' کارپیٹ بمباری' کا حکم دیا جائے: وی ایچ پی

Jul 11, 2017 08:04 PM IST | Updated on: Jul 11, 2017 08:05 PM IST

نئی دہلی۔  وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) نے جموں وكشمير میں امرناتھ سے واپس آنے والے زائرین پر کل ہونے والے دہشت گردانہ حملہ کے لیے ریاست کی محبوبہ مفتی حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے آج مطالبہ کیا کہ دہشت گردوں کی حامی ریاستی حکومت کو فوری طور پر برخاست کرکے جموں و کشمیر کو 24 گھنٹے کے اندر فوج کے حوالے کیا جائے اور فوج کو گولی چلانے اور دہشت گردوں اور ان کے سنگبار حامیوں پر 'کارپیٹ بمباری ' (بموں کی بارش) کرنے کا حکم دیا جائے۔ وی ایچ پی کے بین الاقوامی صدر ڈاکٹر پروین توگڑیا نے یہاں پریس کانفرنس میں امرناتھ یاتریوں پر دہشت گردانہ حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ 'ہمت' کا ثبوت دیں اور جموں وکشمیر میں مسلمانوں کا خیال چھوڑ کر ملک کا خیال کریں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں دہشت گردوں کو دس لاکھ روپے کا انعام دینے والی محبوبہ حکومت کو برخاست کرکے پوری ریاست کو فوج کے حوالے کر دیا جائے اور فوج کو دہشت گردوں اور ان کی حمایت کرنے والوں پر اے کے 47 سے گولیاں چلانے اور ان پر " کارپیٹ بمباری 'کرنے کا حکم دیا جائے۔

 وی ایچ پی لیڈر نے دہشت گردوں کو مقامی کشمیریوں کی حمایت ملنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فوج پر پتھر پھینکنے والی ہزاروں کی بھیڑ اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گردوں کو کشمیری عوام کی حمایت اور تعاون حاصل ہے۔ ریاستی حکومت نے دہشت گردوں کی حمایت کرنے والے سنگباروں پر ربڑ کی گولی چلانے سے روکا ہے اور اسی وجہ سے امرناتھ یاتریوں کے سینے پر گولی لگی ہے۔ اگر فوج کو دہشت گردوں اور ان کے حامیوں پر گولی چلانے کا اختیار ہوتا تو امرناتھ یاتری نہیں مارے جاتے۔ انہوں نے کہا کہ سنگباری کرنے والے کشمیری نوجوانوں کو 'بھولے بھالے گمراہ بچے' کہنا بند کیا جانا چاہئے۔ یہ پاکستانی ایجنٹ ہیں اور ان سے سختی سے نمٹا جانا چاہئے۔

کشمیر کو فوج کے حوالے کرکے سنگبازوں پر' کارپیٹ بمباری' کا حکم دیا جائے: وی ایچ پی

پروین توگڑیا: فائل فوٹو

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز