ہندوتو اور مسلمانوں سے متعلق متنازع بیانات سمجھ کی کمی کا نتیجہ : نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری

Aug 09, 2017 11:36 PM IST | Updated on: Aug 09, 2017 11:36 PM IST

نئی دہلی: نائب صدر حامد انصاری نے ہندوتو اور مسلم کمیونٹی کے بارے میں کچھ لوگوں اور سیاسی رہنماؤں کے متنازعہ بیانات کو سمجھ کی کمی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے لوگ ہندستان کی اس شکل وصورت کو نہیں جانتے، جس پر تمام فخر کرتے ہیں۔ مسٹر انصاری نے راجیہ سبھا ٹیلی ویزن کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ میں کسی سیاسی شخص یا پارٹی کے بارے میں بات نہیں کروں گا لیکن جب بھی کوئی ایسا تبصرہ ہوتا ہے تو میرا پہلا رد عمل یہ ہوتا ہے کہ یہ شخص ناسمجھ ہے یا متعصب ہے یا ملک کے اس سانچے میں فٹ نہیں ہوتا ہے، جس پر ہندستان کو ہمیشہ فخر کااحساس ہوتا ہے، جو سب کو ساتھ لیکر چلنے والا سماج ہے۔ ان سے راشٹریہ سویم سنگھ کے کچھ لیڈروں اور بی جے پی کے کچھ وزراء اور وزرائے اعلی کے ہندوتو اور مسلمانوں کے بارے میں دیئے گئے متنازعہ بیانات کے بارے میں سوال کیا گیا تھا اور پوچھا گیا تھا کہ ایک مسلمان کے طور پر وہ ایسے بیانات پر کیسا محسوس کرتے ہیں۔ مسٹر انصاری کا یہ انٹرویو کل شام نشر کیا جائے گا۔

انہوں نے انٹرویو میں مختلف مسائل پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ رواداری کے بارے میں سوال پر مسٹر انصاری نے کہا کہ یہ ایک اچھی خصوصیت ہے لیکن یہ کافی نہیں ہے۔ لہذا آپ کو رواداری سے آگے قدم اٹھاتے ہوئے قبولیت کی طرف بڑھناہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم رواداری کے بارے میں بات کیوں کرتے ہیں کیونکہ آپ کسی اس بات کو برداشت کرنے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں، جو شاید آپ کے حساب سے نہیں ہے۔ نائب صدر کے طور پر طویل عرصہ تک کام کرنے کے بارے میں مسٹر انصاری نے کہا کہ ایک معنی میں ہر شخص سیاسی مخلوق ہوتا ہے لیکن نائب صدر کے طور پر کام کرنا ایک نیا تجربہ رہا۔

ہندوتو اور مسلمانوں سے متعلق متنازع بیانات سمجھ کی کمی کا نتیجہ : نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری

فائل فوٹو

چیئرمین کے طور پر راجیہ سبھا کی کارروائی چلانے کے سلسلے میں پوچھے گئے سوال پر مسٹر انصاری نے کہا کہ چیئرمین کسی میچ کے ریفری کی طرح ہوتا ہے، جیسے ممبران کو قواعد کے مطابق چلنا ہوتا ہے، ویسے ہی چیئرمین کو بھی قوانین کے اندر اندر رہ کر کام کرنا ہوتا ہے۔ اس بارے میں پوچھے جانے پر کہ ایوان میں ہنگامہ ہونے پر سخت موقف نہیں اپنایا جاتا جبکہ کچھ دیگر ممالک میں سخت کارروائی کی جاتی ہے، انہوں نے کہا کہ یہ ہندستانی ثقافت اور سماجی ماحول کا نتیجہ ہے۔

نئے صدر رام ناتھ کووند کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ آسانی سے دستیاب ہونے والے شخص ہیں۔ میں ان سے اس وقت سے واقف ہوں، جب وہ صدر نہیں بنے تھے۔ وہ بہار کے گورنر تھے، اس دوران کئی مواقع پر پٹنہ میں ان سے بات چیت ہوئی تھی۔ ایک سوال پر انہوں نے سابق صدور مسٹر پرنب مکھرجی اور محترمہ پرتیبھا پاٹل کے درمیان کسی طرح کا موازنہ کرنے سے انکار کیا۔ انہوں نے کہا کہ صدر جمہوریہ کے طور پر ہر شخص کے کام کرنے کا طریقہ مختلف ہوتا ہے اور نائب صدر کا صدر سے رسمی تعلق ہوتا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز