چودہویں صدر کے انتخاب کے لئے پولنگ شروع، رام ناتھ کو وند اور میرا کمار کے بیچ ہے مقابلہ

Jul 17, 2017 11:02 AM IST | Updated on: Jul 17, 2017 11:02 AM IST

نئی دہلی۔  ملک کے چودھویں صدر کے لئے الیکشن آج ہورہا ہے جس میں حکمران این ڈی اے کے امیدوا ر رام ناتھ کو وند اور اپوزیشن کی مشترکہ امیدوار میرا کمار کے درمیان مقابلہ ہے۔ -32 پولنگ اسٹیشنوں میں صبح 10 بجے سے وو ٹ ڈالے جا رہے ہیں۔ ایک پارلیمنٹ میں اور باقی ملک بھر کی ریاستوں کی 31 اسمبلیوں میں۔ ووٹوں کی گنتی 20 جولائی کو صبح گیارہ بجے ہوگی۔ موجودہ صدر پرنب مکھرجی کے عہدے کی مدت 24 جولائی کو ختم ہورہی ہے۔ نئے صدر 25 جولائی کو عہدہ سنبھالیں گے۔ این ڈی اے بہت سکون سے ہے کیونکہ ا س کے امیدوار دلت لیڈر رام ناتھ کووند کی جیت یقینی ہے۔ ان کا تعلق کانپور دیہی (یوپی) سے ہے۔ وہ پچھلے تین سال سے بہار کے گورنر ہیں۔

مسٹر کووند کا انتخاب کرکے وزیراعظم نریندر مودی نے سب کو چونکا دیا مگر یہ انتخاب اتنا صحیح ثابت ہوا ہے کہ بہا ر کے وزیراعلی نتیش کمار کی جنتا دل (یو) نے بھی اپوزیشن سے ہٹ کر مسٹر کووند کو پارٹی کو حمایت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اپوزیشن کی مشترکہ امیدوار اور لوک سبھا کی سابق اسپیکر میرا کمار نے قانون سازوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنےضمیر کی آواز پر ووٹ دیں۔ مسز کمار ملک کے سینئر دلت رہنما بابو جگجیون رام کی بیٹی ہیں جو مرکز میں کانگریس کی حکومت میں کئی دہائیوں تک مرکزی وزیر رہے تھے۔ صدر کا انتخاب ایک الیکٹورل کالج کے ذریعہ ہوتا ہے جس میں ملک کے تمام ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی حصہ لیتے ہیں ۔ این ڈی اے کے پاس گو 50 فی صد ووٹ کا حصہ ہے، اس کے امیدوار کا راشٹرپتی بھون پہنچنا یقینی ہے۔ ٹی آر ایس اور بی جے ڈی سے ہی مسٹر کووند کی حمایت کا اعلان کرچکے ہیں جبکہ وائی ایس جگن موہن ریڈی کی سربراہی والی وائی ایس آر کانگریس بھی بی جے پی امیدوار کی حمایت کا اعادہ کرچکی ہے۔

چودہویں صدر کے انتخاب کے لئے پولنگ شروع، رام ناتھ کو وند اور میرا کمار کے بیچ ہے مقابلہ

الیکٹورل کالج میں کل ووٹ کی قدر 10.98 لاکھ ہے یہ 4896 الیکٹرس پر مشتمل ہے جس میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے منتخب ممبران بنزر ریاستوں اور مرکزی علاقوں کی قانون ساز اسمبلیوں کے منتخب ممبران حصہ لیتے ہیں ۔ صدرارتی الیکشن کمیشن کے بجائے بیلٹ پیپر کے ذریعہ ہوتا ہے۔ شیڈول کا اعلان کرتے ہوئے اس وقت کے چیف الیکشن کمیشنر نسیم زیدی نے کہا تھا کہ ووٹ دینے والوں کو کسی بھی تسلیم شدہ ہندوستانی زبان میں فارم پر کرنا ہوگا اور محض عددوں میں اپنی ترجیح بتانی ہوگی۔ انہوں نے کہا ’’ ووٹ دینے والوں کو جتنے امیدوار ہیں اتنی ہی ترجیحات دینی ہونگی مگر پہلی ترجیح ضروری ہے ورنہ ووٹ مانا نہیں جائے گا۔ باقی دوسری تیسری ترجیح دینا ضروری نہیں ہے۔ ووٹ کا نشان لگانے کے لئے پولنگ بوتھوں پر بیلٹ پیپر کے ساتھ مخصوص پین بھی فراہم کرائے جائیں گے۔

انہوں نے کہا ’’ صرف اسی پین سے نشان لگا سکتے ہیں ۔ اگر ایسا نہ ہوا تو ووٹ بے کار ہوجائے گا۔ لوک سبھا کے سکریٹری جنرل صدر کے الیکشن کے لئے رٹرننگ افسر مقرر ہوئے ہیں۔ مسٹر زیدی نے یہ بھی کہا ہے کہ سیاسی پارٹیاں ووٹنگ کے لئے ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کو کوئی وہپ جاری نہیں کرسکتیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز