راجیہ سبھا میں ڈوكلام تنازع سشما نے کہا :  جنگ کسی مسئلہ کا حل نہیں ، بات چیت سے نکالیں گے راستہ

Aug 03, 2017 09:51 PM IST | Updated on: Aug 03, 2017 09:51 PM IST

نئی دہلی: ملک کی خارجہ پالیسی کے کمزور ہونے کے حزب اختلاف کے الزامات کو سرے سے مسترد کرتے ہوئے وزیر خارجہ سشما سوراج نے آج کہا کہ ہندوستانی کی خارجہ پالیسی آج بلندی پر ہے اور وہ عالمی ایجنڈا طے کر رہا ہے۔ محترمہ سوراج نے آج راجیہ سبھا میں ہندوستان کی خارجہ پالیسی اور اسٹریٹجک شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کے موضوع پر بحث کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ " ہندوستان کی خارجہ پالیسی کافی بلند اور اچھی ہے اور ہمارے وزیر اعظم عالمی سطح پر عالمی ایجنڈا طے کر رہے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی جب بھی بین الاقوامی پلیٹ فارم پر جاتے ہیں تو وہ دہشت گردی کے مسئلے کو زورو شور سے اٹھاتے ہیں اور جب وہ جی -20 ممالک کی کانفرنس میں جاتے ہیں تو وہاں کالے دھن کے مسئلے کو ایجنڈا بناتے ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ہندوستان آج بلندی کی اس سطح پر پہنچ گیا ہے کہ وہ جب بھی کسی ملک میں جاتی ہیں تو وہاں کے صدر اور وزیر اعظم سے ان کی براہ راست بات ہوتی ہے۔

راجیہ سبھا میں ڈوكلام تنازع سشما نے کہا :  جنگ کسی مسئلہ کا حل نہیں ، بات چیت سے نکالیں گے راستہ

محترمہ سوراج نے کہا کہ آج دنیا کے تمام اہم ممالک جیسے امریکہ، روس، برطانیہ، فرانس ،جرمنی اور یورپی یونین بھی ہندوستان کے ساتھ ہیں۔ پہلے صرف روس ہی ہمارے ساتھ تھا لیکن آج امریکہ بھی ہمارے ساتھ ہے یہ ہماری خارجہ پالیسی کی کامیابی ہے۔ عرب دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ بھی ہمارے بہت اچھے تعلقات ہیں۔ اس تناظر میں انہوں نے یمن میں جنگ کے دوران ہندوستانی شہریوں کو مشکل حالات میں وطن واپس لانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانیوں کو نکالنے کے لئے یمن اور اس کے ساتھ متحارب سعودی عرب دونوں کچھ گھنٹے کے لئے جنگ بندی کے لئے تیار ہو گئے۔

چین کے ساتھ سرحدی ڈوكلام علاقے میں تعطل پر انہوں نے کہا کہ یہ تشویش کی بات ہے لیکن اس معاملے پر چین کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور حکومت سفارتی سطح پر بات چیت کو جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان صرف ڈوكلام ہی نہیں بلکہ چین کے ساتھ تمام دوطرفہ معاملات پر تفصیل سے بات کر رہا ہے۔ بھوٹان کے ساتھ بھی حکومت مسلسل رابطہ بنائے ہوئے ہے۔ ہند- بھوٹان اور چین کے ٹرائیجكشن علاقے سے متعلق معاہدوں میں یہ بات واضح طور پر کہی گئی ہے کہ حدود کا تعین تینوں ممالک کی باہمی بات چیت کی بنیاد پر ہی کیا جائے گا۔

محترمہ سوراج نے کہا کہ چین کے صدر شی جن پنگ سے آستانہ میں ملاقات کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے صاف الفاظ میں کہا تھا کہ اگرچہ ہمارے کتنے بھی مسائل پر اختلافات ہوں لیکن ہمیں ان کو تنازعہ میں نہیں تبدیل کرنا چاہئے۔ چین کے سخت موقف کو دیکھتے ہوئے جنگ کی تیاری کرنے کی سماجوادی پارٹی کے لیڈر رام گوپال یادو کی تجویز پر انہوں نے کہا کہ فوجیں تو جنگ کے لئے ہی ہوتی ہیں لیکن جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتی ہے۔ آخر میں جیتنے اور ہارنے والے دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر ہی آنا پڑتا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز