جموں و کشمیر : ہم دفعہ 35 اے کی دفاع کیلئے جان کی بازی لگانے کیلئے تیار ہیں : فاروق عبداللہ

Aug 28, 2017 06:49 PM IST | Updated on: Aug 28, 2017 06:49 PM IST

سری نگر: نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے آئین ہند کی دفعہ 35 اے کے خلاف سازش کو جموں وکشمیر کی پہچان اور عوام پر سیدھا حملہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ جموں وکشمیر کی انفرادیت کا دفاع کرنے کے لئے ہم جان کی بازی لگانے کے لئے تیار ہیں اور فاروق عبداللہ اس میں آگے آگے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے ہر ایک پشتینی باشندے کو دفعہ 35 اے کے دفاع کے لئے جاری تحریک کا حصہ بننا چاہیے کیونکہ اسی دفعہ کی بدولت ہماری پہچان اور کلچر زندہ ہے۔ فاروق عبداللہ نے ان باتوں کا اظہار پیر کے روز شمالی کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے ہندواڑہ میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا ’مہاراجہ ہری سنگھ نے اُس ہندوستان کے تصور کے ساتھ جموں وکشمیر کا مشروط الحاق کیا تھا جس میں ہندو، مسلم ، سکھ ، عیسائی، بودھ اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو یکساں حقوق حاصل تھے ، ہر ایک مذہب سے وابستہ لوگوں کو آئینی تحفظ اور مذہبی آزادی کے ساتھ ساتھ اظہارِ رائے کا حق حاصل تھا لیکن موجودہ بھارت میں گاندھی کے نظریہ کو پارہ پارہ کیا جارہا ہے، فرقہ پرستی عروج پر ہے اور اقلیتیں دم بہ خود ہیں‘۔

جموں و کشمیر : ہم دفعہ 35 اے کی دفاع کیلئے جان کی بازی لگانے کیلئے تیار ہیں : فاروق عبداللہ

فاروق عبداللہ: فائل فوٹو

انہوں نے بھارت کے ساتھ ریاست کے بقول اُن کے مشروط الحاق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیر کے عوام کے ساتھ بار بار دھوکے گئے گئے اور ریاست کو حاصل خصوصی پوزیشن کو ختم کرنے کے لئے درجنوں مرکزی قوانین ریاست پر نافذ کروائے گئے۔ جو آئینی اور جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔ فاروق عبداللہ نے کہاکہ خصوصی پوزیشن کو کھوکھلا کرکے اب دفعہ 35 اے کا خاتمہ کرکے ریاست کے سٹیٹ سبجیکٹ قانون کو ختم کرنے کی مذموم کوششیں کی جارہی ہیں، جو انتہائی افسوسناک اور تشوشناک بات ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس دفعہ 35 اے کی اہمیت اور اس دفعہ کے نہ رہنے سے پڑنے والے منفی اثرات کے بارے میں ریاست کے کونے کونے میں جانکاری مہم چلا رہی ہے اور میں لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس مہم کو آگے لے کر جائیں۔ نیشنل کانفرنس صدر نے ہندوستان اور پاکستان کو مذاکرات کی میز پر آنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ سرحدوں پر جاری گن گرج کو فوری طور پر روک دیا جانا چاہئے۔

انہوں نے کہا ’ اُس پار کی فائرنگ سے اس پار کا کشمیری مارا جاتا ہے اور اِس پار کی گولی سے اُس پار کا کشمیری مرتا ہے، نیز دنوں جانب سے کشمیریوں کا خون بہہ رہا ہے ، کشمیریوں کے مال، مویشی اور املاک تباہ ہورہے ہیں۔ آر پار کشمیری گذشتہ70سال سے ہندوستان اور پاکستان کی دشمنی کی چکی میں پس رہا ہے‘۔سال 2003کے جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد کرنے کی اپیل کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے دونوں ممالک کی لیڈرشپ پر زور دیا کہ وہ بنیادی مسئلہ (مسئلہ کشمیر) کو حل کرکے آپسی دشمنی ہمیشہ کے لئے ختم کردے۔

انہوں نے مرکزی سرکار پر زور دیا کہ وہ جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کے بجائے ریاست کی اٹانومی کو مکمل طور پر بحال کرنے کی پہل کرے، جو بقول اُن کے طاقت کے بلبوتے پر جموں و کشمیر کے عوام سے چھین لی گئی ہے۔پارٹی کے سینئر نائب صدر چودھری محمد رمضان اور ضلع صدر کپوارہ قیصر جمشید لون نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں کہا کہ دفعہ 35 اے سے ہی جموں و کشمیر کے سٹیٹ سبجیکٹ قانون کو آئین ہند میں تحفظ فراہم ہے ، جو ریاست جموں وکشمیر کی انفرادیت اور پہچان کی ضامن ہے۔

انہوں نے کہا کہ دفعہ 35 اے جموں وکشمیر میں سٹیٹ سبجیکٹ قانون ، نوکریوں ، سکالرشپوں اور دیگر مراعات کی ضامن ہے اور اس دفعہ کو ختم کرنے سے یہاں کی پہنچان اور انفرادیت ختم کرنے کی مذموم کوششیں کیں جارہی ہیں۔ این سی سینئر لیڈران نے کہا کہ سٹیٹ سبجیکٹ قانون کے خاتمے سے صرف وادی کشمیر کو ہی نقصان نہیں پہنچے گا بلکہ اس سے کشمیری، ڈوگری ،لداخی، پہاڑی اور گوجری کلچر کا بھی خاتمہ ہوجائے گا۔

لیڈران نے کہا کہ جموں وکشمیر کے عوام دفعہ 35 اے کے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ کی اجازت نہیں دیں گے۔ اس موقعے پر پارٹی کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، صوبائی صدر ناصر اسلم وانی،سینئر لیڈران شریف الدین شارق اور میر سیف اللہ کے علاوہ کئی سرکردہ عہدیداران بھی موجود تھے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز