ہمارے جیسے معاشرے کے لیے ایک ذمہ دار پریس کی ضرورت : حامد انصاری

Jun 13, 2017 12:01 AM IST | Updated on: Jun 13, 2017 12:01 AM IST

نئی دہلی: نائب صدر جمہوریہ محمد حامد انصاری نے کہا ہے کہ ہمارے جیسے معاشرے کے لیے ایک ذمہ دار پریس کی ضرورت ہے۔ حامد انصاری آج بنگلور میں نیشنل ہیرالڈ کے یادگاری ایڈیشن کے آغاز کے موقع پر اظہار خیال کررہے تھے۔ اس موقع پر کرناٹک کے گورنر وجو بھائی رودابالی والا کرناٹک کے وزیر اعلیٰ مسٹر کے سدارمیا اے آئی سی سی کے نائب صدر راہل گاندھی اور دیگر شخصیات بھی موجود تھیں۔ نائب صدر نے کہا کہ ہندوستان میں صحافت کی تاریخ ہماری آزادی کی جدوجہد کی تاریخ سے کافی جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پریس (ذرائع ابلاغ ) نے ہمارے عوام کو با خبر رکھنے اور ان میں بیداری پیدا کرنے میں ایک اہم رول ادا کیا ہے۔ نائب صدر نے کہا کہ پوسٹ ٹروتھ اور متبادل حقائق کے اس دور میں جہاں اشتہاری اداریہ اور جوابی فیچر اداریہ کی اہمیت کو ختم کردیتے ہیں ہم پریس کے نہرو کے ویڑن کو یاد کرتے ہیں جنہوں نے جمہوریت میں ایک نگراں کی حیثیت سے اپنا رول ادا کیا اور ان اصولوں کی پاسداری کی جو ان کی صحافت کو بااختیار بناتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہماری آئینی فریم ورک کے تحت ریاستوں کے ذریعے مداخلت کی گنجائش ہے تاکہ پریس اور معاشرے کے کام کاج کو یقینی بنایا جاسکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان قوانین میں یہ گنجائش ہے کہ ریاستوں کی مذکورہ مداخلت بڑے پیمانے پر عوامی مفاد میں ہو۔

ہمارے جیسے معاشرے کے لیے ایک ذمہ دار پریس کی ضرورت : حامد انصاری

نائب صدر نے کہا کہ جواہرلعل نہرو نے ایک آزاد ،ایماندار اور غیر جانبدار پریس کا تصور پیش کیا اور انہوں نے آزاد ہندوستان میں میڈیا کے افراد کے مفادات کی نگرانی کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ورکنگ جرنلسٹ ایکٹ جس میں صحافیوں کو بڑی حد تک تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور پریس کی آزادی کو یقینی بنایا گیا ہے، کافی حد تک ان کا ایک اہم کارنامہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل ہیرالڈ نے 1938 میں لکھنؤ سے اپنی اشاعت شروع کی تھی اور جلد ہی یہ آزادی کی تحریک بن گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی صحافی محض خبریں فراہم کرنے والے نہیں تھے، بلکہ وہ مجاہدین آزادی اور سماجی کارکن بھی تھے۔جنہوں نے نہ صرف ہندوستان کو غیر ملکی تسلط سے چھٹکارا دلایا، بلکہ سماجی امتیاز، ذات پات، فرقہ پرستی اور بھید بھاؤ سے بھی چھٹکارا دلایا۔

انہوں نے کہا کہ 1865میں کانگریس کے بہت سے بانی ممبران صحافی تھے۔ ٹریبون، ہندوستان،لیڈر، سدھارک،کیسری ، اخبار عام، دی ہندو اور سودیش جیسے جریدے سب سے تحریک والے جریدے تھے، جنہیں تلک گھوکھلے سبرا منیا ایر ، لاجپت رائے، مدن موہن مالویہ اور اگرکر جیسے ممتاز لیڈروں کے ذریعے ایڈٹ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ گاندھی خود چھ جریدوں سے جڑے ہوئے تھے اور دو بہت بااثر ہفتہ وار اخباروں کے ایڈیٹر تھے۔ انہوں نے کوئی اشتہار نہیں شائع کیا ، لیکن وہ ساتھ ہی ساتھ یہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کے اخبار نقصان میں چلیں۔ ینگ انڈیا اور ہریجن موضوعات پر ان کے خیالات کے سب سے طاقتور وسیلے بنے۔

انہوں نے نائب صدر نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ نیشنل ہیرالڈ نے پرنٹ اور ڈیجیٹل فارمیٹس دونوں میں اشاعت دوبارہ شروع کی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ صحافت کے معیارات کو برقرار رکھے گا جو اپنے اخبار میں جواہر لعل نہرو نے قائم رکھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز