جو مطالبہ ہم نے کبھی کیا ہی نہیں تھا ان کو اٹھایا جا رہا ہے، ہم اسلام کے خلاف نہیں ہیں : سائرہ بانو کا بھائی

May 12, 2017 08:53 PM IST | Updated on: May 12, 2017 08:53 PM IST

نئی دہلی : ہم سپریم کورٹ میں جو کیس لڑ رہے ہیں وہ فوری طور پر تین طلاق کے خلاف ہے، ہم خود قرآن کے مطابق دیا جانے والا طلاق چاہتے ہیں، ہم نے کبھی نہیں کہا کہ تین طلاق پر پابندی لگادی جانی چاہئے۔ یہ کہنا ہے سائرہ بانو کے چھوٹے بھائی محمد ارشد کا۔ خیال رہے کہ محمد ارشد نے ہی سائرہ بانو کی اس مسئلہ کو عدالت تک لے جانے کے لئے نہ صرف حوصلہ افزائی کی تھی بلکہ کیس کی تیاری میں بھی مکمل مدد کی۔

نیوز 18 ہندی ڈاٹ کام سے بات چیت کرتے ہوئے ارشد نے کہا کہ ہمارے کیس پر سیاست شروع ہو گئی ہے، جو مطالبہ ہم نے کبھی کیا ہی نہیں تھا ، ان کو اٹھایا جا رہا ہے، ہم اسلام کے خلاف نہیں ہیں۔ارشد کے مطابق ہم چاہتے ہیں کہ اگر کوئی کسی کو طلاق دیتا ہے تو وہ طلاق دے جو قرآن کے مطابق ہے۔

جو مطالبہ ہم نے کبھی کیا ہی نہیں تھا ان کو اٹھایا جا رہا ہے، ہم اسلام کے خلاف نہیں ہیں : سائرہ بانو کا بھائی

قابل ذکر ہے کہ سائرہ بانو کے چھوٹے بھائی ارشد انٹر پاس ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ طلاق ملنے کے بعد بہن نے سب سے پہلے گزارہ بھتہ کے لئے کیس درج کرایا تھا، ہمیں اس بات کی ذرہ برابر بھی معلومات نہیں تھی کہ تین طلاق کو بھی کورٹ میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔اسی دوران مجھے شاہ بانو کیس کے بارے میں معلومات ہوئی ۔ میں نے اس کیس کے بارے میں معلومات اکٹھا کرنی شروع کر دی۔ اس دوران میں نے شاہ بانو کیس سے منسلک کچھ لوگوں سے مل کر بھی معلومات حاصل کیں۔

ارشد نے کہا کہ ہم صرف اتنا چاہتے ہیں کہ جو ہماری بہن کے ساتھ ہوا ویسا کسی اور بہن کے ساتھ نہ ہو۔ لیکن جس طرح سے شاہ بانو کیس کا سیاسی فائدہ اٹھایا گیا تھا، ٹھیک ویسے ہی ہمارے کیس میں بھی کیا جا رہا ہے۔ یہ نہ ہو تو اچھا ہے۔

دریں اثنا سائرہ بانو کا کہنا ہے کہ مجھے حق اور انصاف چاہئے ، تو میں کورٹ میں آئی ہوں۔ سیاست سے مجھے کوئی مطلب نہیں ہے اور نہ ہی میں چاہتی ہوں کہ میرے کیس میں سیاست ہو، ہمیں تو جو جائز اور اسلامی طریقہ ہے ، اسی کے حساب سے طلاق چاہئے۔ عدالت پر مجھے پورا بھروسہ ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز