پڑھیں : کم ووٹنگ پرالیکشن کمیشن کا کیا ہے اصول ، سرینگر ضمنی الیکشن ویلڈ رہے گا یا ہوجائے گا منسوخ ؟

Apr 10, 2017 07:40 PM IST | Updated on: Apr 10, 2017 07:42 PM IST

نئی دہلی : سرینگر پارلیمانی حلقہ کے ضمنی انتخابات میں تشدد کی وجہ سے صرف 7.14 فیصد لوگ ہی حق رائے دہی کا استعمال کر سکے۔ کشمیر کے لوک سبھا انتخابات کی تاریخ میں یہ سب سے کم پولنگ ہے۔ایسے میں عام آدمی کے ذہن میں ایک بڑا سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا اتنی ووٹنگ پر ہی عوامی نمائندے کو منتخب کر لیا جائے گا۔

سابق چیف الیکشن کمشنر کے جے راؤ بتاتے ہیں کہ ووٹنگ کی تعداد سے فرق نہیں پڑتا۔ انتخابات اس سے متاثر نہیں ہوتا۔ جو ووٹنگ ہوتی ہے ، اسی میں سے انتخاب ہو جاتا ہے۔ اگر حالات بہت خراب ہوں ، تو الیکشن کمیشن اس پر غور کر سکتا ہے، لیکن ووٹنگ فیصد کا کوئی کم از کم معیار نہیں ہے۔

پڑھیں : کم ووٹنگ پرالیکشن کمیشن کا کیا ہے اصول ، سرینگر ضمنی الیکشن ویلڈ رہے گا یا ہوجائے گا منسوخ ؟

ماہر آئین سبھاش کشیپ کے جے راؤ کی بات کو آگے بڑھاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسا کوئی اصول نہیں ہے کہ ووٹنگ کم ہوئی تو الیکشن منسوخ کر دیا جائے۔ الیکشن ماہرین کے مطابق جب کئی مقامات پر بلامقابلہ عوامی نمائندے منتخب کر لئے جاتے ہیں ، تو پھر 7 فیصد ووٹنگ پر کوئی دقت کیوں ہوگی۔

خیال رہے کہ سری نگر کے چیف الیکشن افسر شاتمن نے کہا ہے کہ 50 سے 100 بوتھوں پر دوبارہ ووٹنگ ہو سکتی ہے۔ انہوں نے 200 سے زائد تشدد کے واقعات کا اعتراف کیا ۔ یہاں کل 12.60 لاکھ ووٹر ہیں، لیکن ووٹ 90 ہزار لوگوں نے ہی ڈالا۔ اس سے پہلے یہاں 1999 کے عام انتخابات میں صرف 11.93 فیصد پولنگ ہوئی تھی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز