حکومت پاکستان حمایت یافتہ دہشت گردی کو جڑ سے اكھاڑ پھینکنے کے تئیں پرعزم : راجناتھ

Jun 03, 2017 01:46 PM IST | Updated on: Jun 03, 2017 04:38 PM IST

نئی دہلی۔ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ  نے آج کہا کہ مودی حکومت جموں و کشمیر

میں پاکستان کی حمایت میں جاری دہشت گردی کو جڑ سے اكھاڑ کر مسئلے کا مستقل حل نکالنے اور اس کے لئے وہاں مختلف فریقوں سے بات چیت کا راستہ بھی ہموار کرے گی۔

حکومت پاکستان حمایت یافتہ دہشت گردی کو جڑ سے اكھاڑ پھینکنے کے تئیں پرعزم : راجناتھ

راجناتھ سنگھ، پی ٹی آئی، فائل فوٹو

مسٹر سنگھ نے کہا کہ حکومت کشمیر میں دہشت گردی کو 'سیاسی' یا 'فوجی' مسئلہ کے طور پرنہیں بلکہ ایک مستقل'مسئلہ' کے طور پر دیکھتی ہے اور اس کا مستقل حل نکالنے کی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا، "لوگوں کو اسے ٹکڑوں میں دیکھنے کی عادت بنی ہوئی ہے۔ "مودی حکومت اس کے حل کے لئے مربوط راستہ اختیارکرے گي جس میں فوجی اور سیاسی دونوں کی ہم آہنگی ہوگی ۔ وزارت داخلہ کے تین سال کے کام کاج کا حساب پیش کرنے کے مقصد سے طلب کی گئی پریس کانفرنس میں مسٹر سنگھ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل چٹکی بجا کر یا مہینوں میں نہیں نکالا جا سکتا۔ حکومت کے پاس

اس کے لئے حکمت عملی ہے جس کو فی الوقت سامنے نہیں لایا جا سکتا لیکن اس پر کام ہو رہا ہے اور اس مسئلے کا مستقل حل نکالا جائے گا۔

انہوں نے کہا، "ہم جموں و کشمیر کے مستقبل کی راہ کا ہر پتھر ہٹائیں گے۔ قدرت نے کشمیر کو وردان دیا ہے اور وہاں کے نوجوانوں کے ہاتھوں میں جوصلاحيت ہے، اس کا ملک کی ترقی میں استعمال کیا جائے گا۔ یہ ہاتھ پتھر پھینکنے کے لئے نہیں ہیں۔ "انہوں نے کہا کہ کچھ طاقتیں پاکستان کی شہ پر نوجوانوں کو گمراہ کر رہی ہیں اور ان قوتوں کے اپنے مفادات ہیں لیکن ان قوتوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا اور انہیں نوجوانوں کے ساتھ کھلواڑ کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے لئے پاکستان کو براہ راست ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اپنے یہاں سندھ، بلوچستان اور مشرقی پاکستان کو نہیں سنبھال سکا لیکن ہندوستان کے خلاف ان قوتوں کا استعمال کر رہا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے مختلف فریقوں سے بات چیت کی راہ ہموار کرے گی لیکن انہوں نے واضح کیا کہ ابھی یہ طے نہیں ہے کہ کس سے بات کی جائے گی اور کس سے نہیں۔ انہوں نے کہا، "جمہوریت میں بات چیت کے ذریعہ بڑے سے بڑے مسائل حل کئے جا سکتے ہیں۔ حکومت بات چیت کرنے کے لئے تیار ہے۔ "مسٹر سنگھ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل عوام کو اعتماد میں لے کر کیا جائے گا لیکن اس حکمت عملی کا انکشاف نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا، "جب ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ اس مسئلہ کا مستقل حل کیا جائے گا تو ہم صرف نام کے لئے ایسا نہیں کہہ رہے ہیں۔ ہمارے پاس اس سلسلے میں منصوبہ ہے۔ " حکومت اس مسئلہ کو حل کرکے ریاست میں امن قائم کرے گی۔

حریت لیڈروں کو سرحد پار سے فنڈنگ ​​سے منسلک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ طویل نہیں چلے گا۔ انہوں نے کہا کہ سب کو پتہ ہے کہ قومی جانچ ایجنسی (این آئی اے) اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ این آئی اے ایک خود مختار ادارہ ہے اور حکومت اس کے کام کاج میں مداخلت نہیں کرتی ہے۔ پاکستان کے ساتھ بات چیت سے جڑے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کو طے کرنا ہے کہ وہ بات چیت کا ماحول بناتا ہے یا نہیں۔ مودی حکومت نے اقتدار میں آنے کے پہلے دن سے ہی پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات کو ترجیح دی تھی اور وہ ان رشتوں کو مضبوط بنانے کی پوری کوشش کرتی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز