شاہراہوں پر کل سے 500 میٹر کے دائر میں شراب کی دوکانیں ہوجائیں گی بند

Mar 31, 2017 08:04 PM IST | Updated on: Mar 31, 2017 08:04 PM IST

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے قومی اور ریاستی شاہراہوں پر شراب کے ٹھیکوں پر پابندی سے متعلق اپنے سابقہ حکم میں ترمیم کرتے ہوئے 20 ہزار سے کم آبادی والے علاقوں کے معاملے میں کچھ راحت دیتے ہوئے یہ فاصلہ 220 میٹر کرنے کا حکم دیا ہے۔ چیف جسٹس جگدیش سنگھ کیہر، جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور ایل این راؤ کی بنچ نے مختلف فریقوں کی دلیلیں سننے کے بعد کل فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔ بنچ نے آج فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال 15 دسمبر کو دیئے گئے حکم میں آج دی گئی خصوصی رعایت کو چھوڑ کر سابقہ حکم یکم اپریل سے بدستور نافذ ہو گا۔ اس حکم کے تحت یکم اپریل سے شاہراہوں پر 500 میٹر کے دائرے میں شراب کی دکانیں نہیں کھولی جائيں گی۔

عدالت نے کل سماعت کے دوران کہا تھا کہ زندگی شراب سے زیادہ قیمتی ہے۔ بنچ نے کہا کہ شراب پینے سے سڑکوں پر ہونے والے حادثات کو ذہن میں رکھ کر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس کے 15 دسمبر کو دیئے گئے حکم سے پہلے جن ٹھیکوں کے لائسنس کو تجدید کرلی گئي ہے ، اس کی ویلیڈیٹی اس سال 30 ستمبر تک رہے گی۔ اس کے علاوہ دیگر شراب کی دکانوں کو کل سے بند کرنا ہوگا۔ بنچ نے کہا کہ سابقہ حکم میں ترمیم کر کے 220 میٹر کی جو مہلت دی گئي ہے، وہ شاہراہوں کے علاوہ سکم، ہماچل پردیش اور میگھالیہ جیسے پہاڑی ریاستوں میں بھی نافذ ہوگی۔

شاہراہوں پر کل سے 500 میٹر کے دائر میں شراب کی دوکانیں ہوجائیں گی بند

کیرالہ، ہماچل پردیش ، اروناچل پردیش، پنجاب، تمل ناڈو، پڈوچیری، آسام، مغربی بنگال، کرناٹک ،تلنگانہ اور ہریانہ سمیت دیگر ریاستوں کے شرابی ٹھیکیداروں کی ایسوسی ایشنوں کی دلیل تھی کہ شراب کے ٹھیکوں کے لئے ہائی ویز سے 500 میٹر کا تعین کچھ زیادہ ہے اور اسے کم کیا جانا چاہئے۔ اٹارني جنرل مکل روہتگی نے بھی اس دلیل کی حمایت کی تھی اور اس فاصلے کوکم کرنے کی بات کی تھی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز