عورت خواہ کتنی ہی بوڑھی کیوں نہ ہو ، سفر یا سفر حج پر بلا محرم کے نکلنا جائز نہیں : مولانا محمد رحمانی مدنی

Oct 27, 2017 07:07 PM IST | Updated on: Oct 27, 2017 07:07 PM IST

نئی دہلی : اسلام نے عورتوں کے لئے ان کے تحفظ کی خاطرسخت قوانین نافذ کئے ہیں۔ عورت پر مکمل پردہ واجب ہے اس کے لئے کسی بھی نامحرم سے بے پردہ ہونا حرام ہے۔اسلامی قوانین بہ ظاہرسخت ضرور ہیں لیکن انسانی فطرت کے عین مطابق ہیں۔ جن خواتین کی عزت وآبرو پر حملہ ہوتا ہے وہ چاہے کسی بھی مذہب کی ماننے والی ہوں انہیں اسلامی نظام میں جو تحفظ نظر آتا ہے ،وہ کسی اور میں نہیں،وہی اس کی اہمیت اور ضرورت سے واقف ہوتی ہیں۔عورت کو اسلام نے جو مقام دیا ہے وہ کسی اورمذہب نے نہیں دیا ہے ،لیکن بدقسمتی سے بعض نام نہاد مسلمان عورت کو کھلواڑ اور تماشہ بناکر پیش کرتے ہیں۔عورت بیش بہا ایک قیمتی سرمایہ ہے جسے اسلام نے مخصوص لوگوں کے سامنے ہی ظاہر ہونے کی اجازت دی ہے۔ اگر یہ عورت سربازار اپنی زینت کی نمائش کرتی ہے تو یقینا اس پر نازیبا تبصرے کئے جائیں گے اور اس کی عزت کے ساتھ کھلواڑ کی باتیں ہوں گی۔

ان خیالات کا اظہار ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر، نئی دہلی کے صدر مولانا محمد رحمانی سنابلی مدنی نے سنٹر کی جامع مسجد ابوبکر صدیق، جوگابائی میں خطبۂ جمعہ کے دوران کیا۔ مولانا حج پر زیادہ عمر کی خواتین کے بلا محرم جانے کے جواز کی سیاست پر سخت تنقید کررہے تھے۔ انہوں نے اپیل کی کہ اسلامی احکام ومسائل کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے اور علمائے اسلام نیز بڑی بڑی مسلم تنظیموں کے ذمہ داران ہلکی باتیں نہ کریں۔ بلکہ اپنے اور اسلامی وقار کو برقرار رکھنے کی بھرپور سعی کریں۔

عورت خواہ کتنی ہی بوڑھی کیوں نہ ہو ، سفر یا سفر حج پر بلا محرم کے نکلنا جائز نہیں : مولانا محمد رحمانی مدنی

مولانا محمد رحمانی مدنی: فائل فوٹو۔

مولانا نے ماضی میں خواتین پر ہونے والے مظالم کا تذکرہ بھی کیا اور کہا کہ اسلام نے ان خواتین کو اعلی مقام دیا اور ان کے لئے مستقل احکام اور ضابطے ذکر کئے ، ان کو عزت وتکریم کی نگاہ سے دیکھا اور انہیں مردوں کے مقابلہ میں تین درجات دیئے۔اسے دنیا کا سب سے قیمتی سرمایہ بتایا، اسے وراثت میں پورا حق دیا اور اس کی تربیت اور آرام وآسائش کے لئے مستقل احکامات جاری کئے۔

مولانا نے خواتین کے لئے پردہ اور حجاب کو واجب قرار دیتے ہوئے سورۂ احزاب کی آیات کی روشنی میں احکام ذکر کئے، اورسورۂ احزاب ہی کی روشنی میں عورت کی آواز کے پردہ کے حکم کو بھی ذکر کیا اور کہا کہ عورت کے لئے اجنبی مردوں سے بے تکلف ہوکر گفتگو کرنا بھی حرام ہے۔ صحیح مسلم اور ترمذی شریف کی حدیث کی روشنی میں کہا کہ کسی عورت کا بلا محرم کے سفر پر نکلنا جائز نہیں ہے اور نہ ہی کسی اجنبی کے ساتھ خلوت میں جانا جائز ہے۔اگر اسے کسی سے گفتگو کی ضرورت پڑجائے اور کسی اجنبی سے کچھ مانگنا ہو تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ پردہ کے پیچھے سے اسے انجام دے یہاں تک کہ نابینا افراد سے بھی اسے پردہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے جیسا کہ ابوداؤد اور ترمذی کی احادیث میں ملتا ہے۔

مولانا نے مزید کہا کہ عورتوں کا مردوں سے یا مردوں کا عورتوں سے مشابہت اختیار کرنا یا ایک دوسرے کا لباس پہننا بھی حرام ہے، عورت کے لئے اپنے شوہر کی جانب سے مرد رشتہ داروں بالخصوص دیور، شوہر کے بھائی کے جوان لڑکوں اور دیگر تمام نامحرم مردوں سے سختی کے ساتھ پردہ کرنا ضروری ہے، احادیث میں ایسے رشتہ داروں کو موت سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ عورت کی عزت اگر ایک بار چلی گئی تو اس کا صدمہ وہ پوری زندگی نہیں بھول پاتی ہے۔اسی وجہ سے بے پردہ عورتوں پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔تنہا گھر سے نکلنے والی عورت کے بارے میں ترمذی کی صحیح حدیث میں کہا گیا ہے کہ اس کا پیچھا شیطان کرتا ہے اور اس کی عزت کی نیلامی کے امکانات پیدا کرتا ہے اور اسی وجہ سے اجنبی مرد اور عورتوں کے اختلاط کو بھی اسلام نے حرام قرار دیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز