ہریانہ میں عورت کے ساتھ گینگ ریپ، شناخت مٹانے کے لیے چہرے کو گاڑی سے کچلا

May 13, 2017 08:47 PM IST | Updated on: May 13, 2017 08:48 PM IST

نئی دہلی۔ ہریانہ کے روہتک میں نربھيا واقعہ سے بھی زیادہ دردناک معاملہ سامنے آیا ہے۔ یہاں سات لوگوں نے ایک عورت کے ساتھ پہلے گینگ ریپ کیا پھر اس کے سر کو گاڑی سے کچل دیا۔ روہتک پولیس کے مطابق ریپ کے بعد ملزمان نے عورت کے پرائیویٹ پارٹ پر تیز دھار والے ہتھیار سے حملہ کر دیا۔ اس کے بعد شناخت مٹانے کے لیے عورت کے چہرے پر گاڑی چلا دی۔ یہ واقعہ گزشتہ 9 مئی کا ہے۔

لاش کو کتے نے نوچا

ہریانہ میں عورت کے ساتھ گینگ ریپ، شناخت مٹانے کے لیے چہرے کو گاڑی سے کچلا

علامتی تصویر

روہتک کے آئی ایم ٹی میں ایک نامعلوم عورت کی لاش برآمد ہوئی تھی، لاش کو کتے نے نوچ رکھا تھا۔ چرواہوں نے سڑی گلی حالت میں لاش کو دیکھا تو پولیس کو معاملے کی اطلاع دی۔ موقع پر پہنچی پولیس اور ایف ایس ایل کی ٹیم نے جانچ کی اور لاش قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لئے پی جی آئی بھیج دیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جب متاثرہ خاتون کام پر جا رہی تھی اسی دوران 7 لوگوں نے اس کو اغوا کر لیا۔ ابتدائی جانچ میں پتہ چلا ہے کہ متاثرہ کے جسم کو تیز دھار والے ہتھیار سے نقصان پہنچایا گیا۔ اس کے جسم کے اندر تک کافی چوٹیں ہیں۔

لاپتہ افراد کے لئے درج معلومات کی بنیاد پر متاثرہ کی شناخت کی گئی ہے۔ عورت کے باپ نے 9 مئی کو مقدمہ درج کرایا تھا۔ متاثرہ کے خاندان پڑوسی پر الزام لگا رہے ہیں۔

روہتک کے واقعہ سے سونیا گاندھی برہم

 کانگریس سربراہ سونیا گاندھی نے ہریانہ کے روہتک میں اجتماعی آبروریزی کے بعد عورت کا بے دردی سے قتل کرنے کے واقعہ پر غصہ کا اظہار کیا ہے۔ کانگریس نے اپنے سرکاری صفحہ پر آج ٹویٹ کرکے کہا کہ روہتک میں اجتماعی آبروریزی کے بعد ہوئے قتل کے اس واقعہ پر محترمہ گاندھی نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ واقعہ کی خبر سے انہیں کافی تکلیف پہنچی ہے۔ واضح رہے کہ روہتک میں اپنے کام کے سلسلے میں گھر سے باہر گئی ایک عورت کو کچھ لوگوں نے اغوا کرلیا اور اس کی اجتماعی عصمت دری کی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز