یوپی میں خواتین کو بھی وقف املاک کا متولی بنایا جائے ، محسن رضا کا شیعہ اور سنی وقف بورڈ سے مطالبہ

Aug 10, 2017 11:22 PM IST | Updated on: Aug 10, 2017 11:23 PM IST

لکھنؤ: اترپردیش کے اقلیتی بہبود کے وزیر مملکت محسن رضا نے شیعہ اور سنی وقف بورڈوں سے عورتوں کو بھی متولی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ مسٹر رضا نے آج کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کے دور میں انہیں متولی کیوں نہیں بنایا جاسکتا ۔ خواتین مسجدوں کی بھی متولی بن سکتی ہیں، تاہم انہیں امام نہیں بنایا جا سکتا۔

اقلیتی فلاح و بہبود کے وزیر مملکت نے کہاکہ شیعہ اور سنی وقف بور ڈ کو خواتین کو متولی بنانا پڑے گا ،کیونکہ خواتین کے بااختیار بننے کو دور میں یہ مطالبہ زور پکڑے گا۔ متولی صرف مرد ہی کیوں ہوں، خواتین کیوں نہیں۔ انہوں نے دونوں بورڈوں میں خواتین ملازمین کی تقرری کو بھی ضروری قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بورڈ میں خواتین کی حصہ داری کیوں نہیں ہونی چاہئے۔

یوپی میں خواتین کو بھی وقف املاک کا متولی بنایا جائے ، محسن رضا کا شیعہ اور سنی وقف بورڈ سے مطالبہ

انہوں نے کہاکہ ٹرسٹ دو طریقے کے ہوتے ہیں، پہلا علی الاولاد اور دوسرا علی الخیر۔ علی الخیر سرکاری ٹرسٹ ہوتا ہے جبکہ علی الاولاد خانگی۔ علی الاولاد میں معاہدہ کے مطابق کنبہ کا ہی رکن ہو سکتا ہے جبکہ علی الخیر میں سماج کے کسی بھی شخص کو رکن یا متولی بنایا جا سکتا ہے۔خواتین بھی اس ٹرسٹ میں رکن یا متولی ہوسکتی ہیں۔ بورڈوں کو اس پر غور کرنا چاہئے۔

مسٹر رضا نے دعوی کیا کہ ریاست میں ایک لاکھ 25 ہزار وقف املاک ہیں۔بیشتر میں بورڈ کی نااہلی کی وجہ سے ناجائز قبضہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ کی کئی املاک کو اونے پونے دام میں فروخت کیا گیا۔ بدعنوانی کی وجہ سے بورڈوں کی حالت خراب ہے، جن بورڈوں کے پاس اربوں کی املاک ہے ان کے اکاؤنٹس میں صرف چند روپے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت وقف بورڈوں کی آمدنی بڑھا کر خواتین کی مالي حالت سدھارنا چاہتی ہے۔ خواتین کو اسکل ڈیولپمنٹ اسکیم کے تحت تربیت دےکر انہیں اپنے پیروں پر کھڑا کیا جائے گا۔ ان کا دعوی تھا کہ مسلم خواتین کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ انہیں دوسرے درجے کا شہری بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز