یاسین ملک سری نگر میں گرفتاری کے بعد سینٹرل جیل منتقل ، گیلانی بدستور نظر بند

Sep 01, 2017 09:15 PM IST | Updated on: Sep 01, 2017 09:15 PM IST

سری نگر : جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے چیئرمین محمد یاسین ملک کوجمعہ کے روز فرنٹ کے زونل آرگنائزر بشیر احمد کشمیر کے ہمراہ گرفتار کرنے کے فوراً بعد سینٹرل جیل سری نگر منتقل کردیا گیا۔ فرنٹ کے ایک ترجمان نے یہاں جاری ایک بیان میں یہ اطلاع دیتے ہوئے کہا ’پولیس کی ایک بھاری جمعیت نے آج دوپہر بعد لبریشن فرنٹ کے دفتر کا گھیراؤ کرلیا اوربعدازاں مسٹر ملک اور زونل آرگنائزر کی گرفتاری عمل میں لائی‘۔

دریں اثنا بزرگ علیحدگی پسند راہنما و حریت کانفرنس (گ) چیئرمین سید علی گیلانی کو بدستور اپنی رہائش گاہ پر نظربند رکھا گیا ہے۔ حریت کے ترجمان اعلیٰ غلام احمد گلزار نے انتظامیہ کی طرف سے مسٹر گیلانی کو مسلسل آج پندرہویں بار نماز عید ادا کرنے پر پابندی عاید کرنے اور ان کی رہائش گاہ کے باہر جموں کشمیر پولیس اور سی آر پی ایف کا مسلسل پہرہ رکھے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی رہائش گاہ کو عملاً ایک جیل خانے میں تبدیل کیا گیا ہے جہاں ان کے محبوں، کارکنوں اور رشتہ داروں سے جیل ملاقاتیوں کی طرح جامہ تلاشی کی جارہی ہے، لیکن سرکاری طور ان کی نظربندی سے انکار کیا جارہا ہے۔

یاسین ملک سری نگر میں گرفتاری کے بعد سینٹرل جیل منتقل ، گیلانی بدستور نظر بند

ترجمان نے سرکار کے اس رویے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اپنی رہائش گاہ میں 2010ء سے مسلسل نظربند رہنے کی وجہ سے ان کی صحت پر مہلک منفی اثر پڑنے کا اندیشہ لاحق ہوگیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز