یوگی ہی نہیں 'باغی' بھی ہیں آدتیہ ناتھ، ان تیوروں سے بی جے پی کھاتی ہے خوف!۔

Mar 21, 2017 04:20 PM IST | Updated on: Mar 21, 2017 04:20 PM IST

لکھنئو۔ اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کو جاننے والے بتاتے ہیں کہ ان کی کٹر ہندووادی اور باغی رجحان نے ہی انہیں یوپی کے اقتدار میں سب سے اوپر تک پہنچایا۔ بغاوت شروع ہوتی ہے ان کے کالج کے دور سے۔ كوٹدوار کے صحافی گریش تیواری بتاتے ہیں کہ یوگی كوٹدوار ڈگری کالج، اتراکھنڈ میں پڑھتے ہوئے اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) سے منسلک تھے۔ سال 1991 میں یہاں طالب علم یونین الیکشن ہو رہا تھا۔ انہوں نے جنرل سکریٹری کے عہدے کے لئے ٹکٹ مانگا۔ لیکن تنظیم نے کسی اور کو موقع دیا۔

پھر یوگی نے اے بی وی پی کے خلاف بغاوت کر دی۔ وہ الیکشن بری طرح ہار گئے۔ پانچویں نمبر پر آئے تھے۔ انہیں طالب علم رہنما ارون تیواری نے شکست دی۔ اس واقعہ نے یوگی کی زندگی بدل دی۔ پھر وہ اپنے ماما مہنت اویدھناتھ کے پا س گورکھپور واقع گورکھناتھ مندر آ گئے۔

یوگی ہی نہیں 'باغی' بھی ہیں آدتیہ ناتھ، ان تیوروں سے بی جے پی کھاتی ہے خوف!۔

صحافی ٹی پی شاہی بتاتے ہیں کہ گورکھپور میں بھی یوگی کا بغاوتی انداز دیکھنے کو ملا۔ سال 2002 میں انہوں نے ہندو یوا واہنی تشکیل دی۔ اسی سال اسمبلی انتخابات میں ان کے اس تیور کا بی جے پی نے سامنا کیا۔ گورکھپور نشست سے پارٹی نے یوپی کے کابینہ وزیر رہے شیو پرتاپ شکلا کو امیدوار بنايا جبکہ یہاں سے یوگی اپنے خاص رادھا موہن داس اگروال کے لئے ٹکٹ مانگ رہے تھے۔ پارٹی نے اپنے کابینہ وزیر کو ٹکٹ دینا مناسب سمجھا۔ پھر کیا تھا یوگی نے آل انڈیا ہندو مہاسبھا کے ٹکٹ پر انتخابی میدان میں اتار دیا۔

یوگی کا وہاں اثر اتنا ہے کہ اگروال الیکشن جیت گئے اور شکلا کو تیسرے نمبر پر اکتفا کرنا پڑا ۔ شکلا اس وقت بی جے پی سے راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ ہیں۔ دہلی میں بی جے پی کور کرنے والے سینئر صحافی سبھاش نگم کا خیال ہے کہ جارحانہ اور باغی تیور نہ ہوتا تو شاید ہی یوگی کو پارٹی یہاں تک پہنچاتی۔ اسی لئے انہیں عوام نے بھی پسند کیا اور پارٹی نے بھی۔ بی جے پی کو ان سے ڈر بھی لگتا ہے، ان کی ضرورت بھی پڑتی ہے۔ جارحانہ رویہ کی وجہ سے ہی وہ آر ایس ایس کے چہیتے بھی ہیں۔

اوم پرکاش کی رپورٹ

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز