یوگی نے توڑی برسوں پرانی روایت ، نہ افطار پارٹی دی ، نہ اس میں شریک ہوئے اور نہ ہی عیدگاہ گئے

Jun 26, 2017 04:38 PM IST | Updated on: Jun 26, 2017 04:38 PM IST

لکھنؤ : اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے عید گاہ نہ جانے کی وجہ سے آج برسوں پرانی روایت ٹوٹ گئی۔  عید کے موقع پر وزرائے اعلی کے عیش باغ عید گاہ جانے کی روایت رہی ہے لیکن مسٹر یوگی کے وہاں نہ جانے کی وجہ سے یہ روایت ٹوٹ گئی۔ اگرچہ گورنر رام نائک، نائب وزیر اعلی ڈاکٹر دنیش شرما اور سماج وادی پارٹی صدر اور سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو نے عید گاہ جاکر لوگوں کو عید کی مبارک باد دی اور لوگوں سے ملاقات کی۔

وزیر اعلی کی سرکاری رہائش گاہ پر رمضان المبارک کے دوران افطار پارٹی دیئے جانے کی بھی روایت کو یوگی آدتیہ ناتھ نے توڑی۔ روایت کے مطابق رمضان المبارک میں ایک دن وزیر اعلی کی جانب سے افطار پارٹی دی جاتی تھی لیکن اس بار وہ پارٹی نہیں ہوئی۔  وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ راج بھون میں گزشتہ 23 جون کو منعقدہ افطار پارٹی میں بھی شامل نہیں ہوئے تھے لیکن ان کے نمائندے کے طور پر نائب وزیر اعلی ڈاکٹر دنیش شرما اور کئی وزیر راج بھون افطار پارٹی میں شرکت کی تھی۔

یوگی نے توڑی برسوں پرانی روایت ، نہ افطار پارٹی دی ، نہ اس میں شریک ہوئے اور نہ ہی عیدگاہ گئے

دریں اثنا، ریاست کے دیگر علاقوں سے عید تزک و احتشام اور روایتی طریقے سے منائی گئی۔ مہینے بھر روزہ رکھنے کے بعد لوگوں نے عید کے موقع پر جم کر سوئیاں کھائیں، لکھنؤ کے عیش باغ عید گاہ پر اہم نماز ادا کی گئی۔ ہزاروں نمازيوں نے اس میں شامل ہوکر ملک کی سلامتی کے لئے بھی دعا کی۔ سیکورٹی کے وسیع بندوبست کے درمیان عيدگاهوں اور مساجد میں نماز ادا کرنے کے بعد لوگ ایک دوسرے کے گلے ملے اور انہیں عید کی مبارکباد دی۔

اترپردیش میں مؤ ضلع کے سرائے لکھسی علاقہ میں واقع نصیر پور گاؤں میں عید کے دن آج لوگوں نے پرانے کپڑے پہن کر اور بازو پر سیاہ پٹی باندھ کر عید کی نماز ادا کی۔ اس کے ساتھ ہی برسوں سے لگنے والا عید کا میلہ بھی آج بند رہا۔  واضح رہے کہ گاؤں میں واقع مسجد میں عبادت کر رہے یوسف خان (70) کو گزشتہ 23 جون کی رات گئے مسجد میں ہی گولی مار کر قتل کردیا گیا تھا اور گوشت کے ٹکڑے پھینک دیئے گئے تھے۔ اس لئے نمازیوں نے کالی پٹی باندھ کر عید کی نماز ادا کی۔ اس کے ساتھ ہی عید گاہ پر برسوں سے لگنے والا میلا بھی آج نہیں لگا۔

اس واقعہ میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی بگاڑنے کی سازش کا معاملہ نظر آیا حالانکہ پولیس انتظامیہ نے بڑی تیزی سے حالات پر قابو پاتے ہوئے ملزمین کو جلد گرفتار کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ مقتول کے بیٹے محمد صادق نے بتایا کہ ملزمین کی گرفتاری نہ ہونے سے گاؤں والوں میں غصہ ہے جس سے انہوں نے اس بار عید سادگی سے منانے کا فیصلہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی خاص بات یہ ہے کہ گاؤں والوں نے گاؤں کے باہر بینر لگایا ہے جس میں لکھا ہے کہ اس گاؤں میں کوئی بھی لیڈر داخل نہیں ہوگا اور نہ ہی قتل کے سلسلے میں کسی طرح کی سیاست ہونی چاہئے۔

کانپور سے ملی اطلاع کے مطابق عید گاہ پر صبح سے ہی نمازيوں کا پہنچنا شروع ہو گیا تھا۔ شہر امام نے لوگوں کو عید کی نماز ادا پڑھائی اور بھائی چارہ اور مضبوط ہونے کی دعا کی۔

اجودھیا میں بھی دھوم دھام سے عید منائی گئی۔ عید گاہ پر نماز ادا کرنے کے بعد لوگ ایک دوسرے کے گلے ملے۔ بچوں نے کھلونے خریدے اور چاٹ پكوڑيا بھی خوب كھائي۔ عيدگاهوں کے پاس سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے پنڈال لگا رکھے تھے جس میں وہ نمازیوں سے مل رہے تھے۔

امبیڈكرنگر، جونپور، وارانسی، بھدوہی، بریلی، مرادآباد، مظفرنگر، اٹاوہ اور متھرا سمیت ریاست کے دیگر حصوں سے بھی خوشگوار ماحول میں عید منائی گئی۔ کہیں سے ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ہے۔ سیکورٹی کے وسیع انتظام کے درمیان لوگ ایک دوسرے سے گلے مل کر عید کی کومبارکبادی دی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز