کیا مدرسوں کے ذریعہ مسلمانوں کا دل جیتنا چاہتی ہے بی جے پی ؟

Jan 21, 2018 01:33 PM IST | Updated on: Jan 21, 2018 01:33 PM IST

لکھنو : اترپردیش میں وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ پر مدارس کے بھگوا کرن اور ان پر غیر ضروری قوانین تھوپے جانے کے الزامات لگتے رہے ہیں ۔ مانا جارہا تھا کہ حکومت مدارس کو بند کرنا چاہتی ہے ، لیکن اب الگ ہی تصویر نظر آرہی ہے ۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے مدارس کو بند کرنے کی سفارش کو سرے سے ہی خارج کردیا ہے ۔ ساتھ ہی ساتھ یوگی حکومت مدارس کو ماڈرن بنانے کے کام میں پوری طرح سے مصرف ہوگئی ہے۔

آبادی کے اعتبار سے ملک کی سب سے زیادہ مسلم آبادی والی ریاست اترپردیش ہے ، اس لئے اترپردیش اس اسکیم کے نفاذکیلئے سب سے اہم ہے ۔ مدراس کے ماڈرنائزیشن کے پیچھے بی جے پی کی بڑی ہی سوچی سمجھی منصوبہ بندی کام کررہی ہے۔ سچر کمیٹی نے بھی ملک میں مسلمانوں کی اقتصادی ، سماجی اور تعلیمی صورتحال دیگر سماج کے مقابلہ میں کافی خراب بتائی تھی ، اب اسی خراب صورتحال کو وزیر اعظم مودی اور یوگی آدتیہ ناتھ بی جے پی کے فائدے کیلئے بھنانے کی کوشش میں لگے ہیں ۔ منصوبہ تیار ہوچکا ہے اور 2019 تک اس کا اثر یہ ہونے والا ہے کہ بی جے پی ان علاقوں میں بھی کمل کھلا سکتی ہے ، جہاں مسلمان سب سے زیادہ اثر رکھتے ہیں۔

کیا مدرسوں کے ذریعہ مسلمانوں کا دل جیتنا چاہتی ہے بی جے پی ؟

علامتی تصویر

اترپردیش میں مدارس کو ماڈرن بنانے کا کام تیزی سے شروع کیا جارہا ہے ۔ قرآن اور کمپیوٹر کی جگل بندی مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ روزگار دینے والی تعلیم کیلئے ضروری ہے ، اس لئے وزیر اعظم مودی نے مدارس کو ماڈرن اسکولوں جیسا بنانے کی مہم چھیڑی ہے ، اس اسکیم سے مسلم بچوں کے مستقبل کو تو فائدہ ہوگا ہی ساتھ ہی ساتھ بی جے پی بھی اس کو اپنے لئے نفع کے سودہ کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

بی جے پی کو مدارس کو ماڈرن بنانے سے فائدہ ہونے کی امید ہے ، کیونکہ ملک بھر میں مدارس میں ایک کروڑ مسلم کنبوں کے بچے پڑھتے ہیں ۔ یعنی مدارس کے ماڈرنائزیشن کا سیدھا فائدہ ایک کروڑ مسلم کنبوں کو ہوگا۔

خیال رہے کہ گزشتہ سات سال میں مرکزی حکومت نے مدارس کی جدید کاری پر 1000 کروڑ روپے خرچ کئے ہیں ، اس میں سے سب سے زیادہ فنڈ 2015-16 میں 294 کروڑ روپے مودی حکومت نے جاری کیا ۔ یوگی حکومت کے پہلے بجٹ میں بھی مدارس کیلئے 394 کروڑ روپے دئے گئے تھے۔

ادھر اترپردیش کی وزارت اقلیتی امور کی مانیں تو اب مسلم لڑکیوں کی تعلیم پر بھی سالانہ 700 کروڑ روپے خرچ کرنے کی اسکیم بنائی جاچکی ہے ۔ حج سبسڈی میں دی جانے والی 700 کروڑ روپے کی رقم اب بچوں کی تعلیم پر خرچ کی جائے گی۔

غور طلب ہے کہ بی جے پی پر اب تک مسلم مخالف ہونے کے الزامات لگتے رہے ہیں ، لیکن اقلیتی امور کی وزارت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات سے پتہ چلتا ہے کہ بی جے پی نے کئی محاذ پر جرات مندانہ فیصلے کئے ہیں ۔ تاہم کیا ان اقدامات کے بدلہ میں بی جے پی کو مسلم ووٹ ملے گا یا نہیں ، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز