یوگی کے 100 دن کی مدت کار میں سہارنپور واقعات نے حکومت کو پریشان کیا

Jun 27, 2017 02:26 PM IST | Updated on: Jun 27, 2017 02:26 PM IST

سہارنپور۔ اترپردیش کی یوگی حکومت کے 100دنوں کی مدت کار میں سہارنپور میں ہوئے فرقہ وارانہ اور نسلی تشدد کی وجہ سے دوڈسٹرکٹ مجسٹریٹوں،دو سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹوں ،ایک کمشنر اور ایک ڈپٹی اسنپیکٹرجنرل کو اپنی کرسی گنوانی پڑی۔ یوگی آدتیہ ناتھ کی اتر پردیش میں حکومت بنتے ہی 20 اپریل کو سڑک دودھلي گاؤں میں ہوئے تشدد میں چھ مقدمے درج ہوئے ، جس میں ان مقدموں میں رکن پارلیمنٹ اور رکن اسمبلی سمیت بی جے پی کے کئی مقامی لیڈروں کو ملزم بنایا گیا۔ یوگی حکومت کے امن و قانون نہ سنبھال پانے کے سبب ہوئے تشدد میں ضلع مجسٹریٹ شفقت کمال اور ایس ایس پی لو کمار کا تبادلہ کر دیا گیا۔ سہارنپور میں پانچ مئی کو رام نگر میں ہوئے نسلی تشدد میں درجنوں گاڑیاں ہنگامے میں جلا دی گئیں اور کئی جگہ آتش زنی کرکے سہارنپور کو آگ میں جھلسا دیا گیا۔

پھر چار دن بعد نو مئی کوشبیر پورگاؤں نسلی تشدد میں سلگ گیا یہاں تقریباً 55 دلتوں کے گھر پھونک دیئے گئے۔ 23 مئی کو شبیر پور گاؤں میں بی ایس پی سربراہ مایاوتی دلتوں سے ہمدردی ظاہر کرنے پہنچیں۔ اس کے بعد شبیر پور میں ہوئی ریلی ختم ہوتے ہی راستے میں گھر جا رہے لوگو ں پر تشدد ہوا جس میں ناکام امن و قانون کا خمیازہ انتظامیہ افسروں کو بھگتنا پڑا، جس میں ضلع مجسٹریٹ این پی سنگھ اور سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ ایس کے دوبے کو معطل کر دیا گیا اور کمشنر ایم کے اگروال اور ڈی آئی جی جے کے شاہی کی منتقلی کر دی گئی۔

یوگی کے 100 دن کی مدت کار میں سہارنپور واقعات نے حکومت کو پریشان کیا

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز