امداد یافتہ دینی مدارس پر سرکاری دباؤ کے بعد مدارس کے موقف میں بھی آئی سختی

Nov 08, 2017 12:24 PM IST | Updated on: Nov 08, 2017 12:24 PM IST

الہ آباد۔ یو پی حکومت سے امداد یافتہ دینی مدارس پر بڑھتے سر کاری دباؤ کے خلاف دینی مدارس نے بھی سخت موقف اختیار کرنا شروع کر دیا ہے ۔ دینی مدارس کا کہنا ہے کہ وہ اعلیٰ سرکاری افسران کے زبانی احکامات  کو تسلیم  نہیں کریں گے۔ دینی مدارس کی دلیل ہے کہ وہ صرف یو پی مدرسہ بورڈ کے سامنے جواب دہ ہیں۔ ایسے میں ان کو جو بھی احکام دیئے جائیں وہ ضابطہ کے تحت تحریری طور سے دیئے جائیں ۔

یوپی میں حکومت سے امداد یافتہ دینی مدارس پر دن بہ دن بڑھتے سرکاری دباؤ سے پریشان دینی مدارس کے ذمہ ادارن نے بھی اپنے موقف میں سختی پیدا کر لی ہے ۔ دینی مدارس میں سی سی ٹی وی کیمرے، بایو میٹرک مشین سمیت کئی طرح  کے احکا مات مقامی افسران نے زبانی طور سے دیئے تھے ۔ حکومت کے اس رویے سے دینی مدارس سخت پریشان ہیں۔ دینی مدارس  نے آئے دن  پڑنے والے دباؤ کے خلاف اپنا موقف سخت کرنا شروع کر دیا ہے ۔ مدارس کے ذمہ داران کا واضح طور سے کہنا ہے کہ اب وہ صرف تحریری احکامات کے ہی پابند ہوں گے ۔ دینی مدارس کی دوسری سب سے بڑی شکایت یہ ہے کہ سر کاری افسران پرو ٹوکول کی خلاف ورزیاں  کر رہے ہیں ۔ ضابطے کے مطابق مدارس کے ذمہ داران کو کوئی مقامی سرکاری افسر اپنے دفتر طلب نہیں کر سکتا ۔لیکن گذشتہ چند مہینوں سے حکومت کے افسران برائے اقلیتی امور دینی مدارس کے پرنسپلوں اور مینیجروں کو  اپنے دفتروں میں طلب کرنے لگے ہیں ۔

امداد یافتہ دینی مدارس پر سرکاری دباؤ کے بعد مدارس کے موقف میں بھی آئی سختی

دینی مدارس کے ذمہ داران کا موقف ہے کہ  ریاستی حکومت جو بھی احکامات دینی مدارس کو دینا چاہتی ہے وہ یو پی مدرسہ بورڈ کے ذریعے تحریری طور پر دے ۔ مدارس کا کہنا ہے کہ ریاستی حکومت کی طرف سے زبانی طور سے دئے جانے والے احکامات  سے نہ صرف مدارس کے درس و تدریس پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں بلکہ امداد یافتہ دینی مدارس کے اعتماد پر بھی برا اثر پڑ رہا ہے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز