اترپردیش میں شیعہ سنی وقف بورڈ کے انضمام اور تحلیل کی دونوں کمیونیٹی کے افراد کر رہے ہیں شدید مخالفت

اترپردیش میں شیعہ وقف بورڈ اور سنی وقف بورڈ کے انضمام اور دونوں وقف بورڈ کو تحلیل کئے جانے کے سر کاری بیانوں پرشیعہ اورسنی طبقوں کی طرف سے سخت رد عمل کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔

Oct 25, 2017 11:41 PM IST | Updated on: Oct 25, 2017 11:41 PM IST

الہ آباد : اترپردیش میں شیعہ وقف بورڈ اور سنی وقف بورڈ کے انضمام اور دونوں وقف بورڈ کو تحلیل کئے جانے کے سر کاری بیانوں پرشیعہ اورسنی طبقوں کی طرف سے سخت رد عمل کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔ یوگی سرکار میں وقف کے وزیر محسن رضا کی طرف سے دیے گئےاس بیان پر مسلمانوں میں سخت ناراضگی ہے، جس میں انہوں نے شیعہ اورسنی وقف بوروڈوں کوملا کر ایک وقف بورڈ بنانے کی بات کہی تھی ۔اوقاف کے معاملات سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ وقف ایکٹ اور فقہی اعتبار سے شیعہ سنی اوقاف الگ الگ حیثیت کے حامل ہیں اور یہ کہ دونوں اوقاف کو ملایا نہیں جا سکتا ۔

شیعہ اور سنی دونوں طبقے کےافراد وقف بوروڈ ں کے انضمام کی سخت مخالفت کر رہے ہیں۔ دونوں کے طبقہ کے دانشوروں کا خیال ہے کہ یو پی میں شیعہ اور سنی وقف بورڈ کی الگ الگ قانونی حیثیت ہے ۔ ایسے میں دونوں وقف بوروڈں کا انضمام وقف قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔جبکہ مسلم سماج کے ایک طبقہ کا خیال ہے کہ شیعہ سنی وقف بورڈ کا انضمام ایک سیاسی شوشے کے طور پر چھوڑا گیا ہے ۔

اترپردیش میں شیعہ سنی وقف بورڈ کے انضمام اور تحلیل کی دونوں کمیونیٹی کے افراد کر رہے ہیں شدید مخالفت

وقف کے تحفظ کے لئے کام کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ شیعہ -سنی وقف بورڈ کے انضمام سے زیادہ ضروری ہے کہ دونوں بورڈ وں میں پائی جانے والی بدعنوانیوں کو دور کیا جائے ۔ان کا کہنا ہے کہ یو پی میں اوقاف کا تحفظ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ بن گیا ہے ۔

تاہم زیادہ ترافراد کا خیال ہے کہ وقف بورڈ کی آڑ میں بی جے پی مسلمانوں کے درمیان مسلکی اختلاف کو ہوا دینے کی کوشش کر رہی ہے ۔ معاملہ خواہ شیعہ سنی وقف بورڈ کےانضمام کا ہوا یا دونوں بورڈ کو تحلیل کرنے کا ہو، مسلمانوں کے دونوں فرقے حکومت کے اس موقف کے سخت مخالف ہیں ۔ اس معاملے میں شیعہ اور سنی ساتھ ساتھ کھڑے دکھائی دے رہے ہیں ۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز