اجودھیا مسئلہ وسیم رضوی کا گھر نہیں کہ جب چاہیں کسی سے سمجھوتہ کرلیں : ظفریاب جیلانی

یودھیا میں مندر ۔مسجد معاملہ کوبات چیت سے طے کرنے سے متعلق اترپردیش شیعہ سنٹرل وقف بورڈ کی سپریم کورٹ میں پیش کی گئی تجویز کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے کہاکہ تنازعہ میں جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے

Nov 20, 2017 07:45 PM IST | Updated on: Nov 21, 2017 12:07 AM IST

لکھنؤ: ایودھیا میں مندر ۔مسجد معاملہ کوبات چیت سے طے کرنے سے متعلق اترپردیش شیعہ سنٹرل وقف بورڈ کی سپریم کورٹ میں پیش کی گئی تجویز کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے کہاکہ تنازعہ میں جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اس کے اس طرح کے مسودے کا کیا مطلب ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سکریٹری اور معاملے میں فریق سنی سنٹرل وقف بورڈ کے وکیل ظفریاب جیلانی نے  کہاکہ شیعہ وقف بورڈ کا اس معاملہ میں دعوی 1946میں ہی ختم ہوگیا تھا۔ شیعہ وقف بورڈ نے کہہ دیا تھا کہ اس معاملہ سے اس کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ 1989میں شیعہ وقف بورڈ نے پھر فریق بننے کی کوشش کی تھی۔ 30ستمبر 2010کو الہ آباد ہائی کورٹ کی لکنھو خصوصی بنچ کا فیصلہ آنے کے بعد بھی کچھ نہیں کہا گیا۔ اب ان کی تجویز کا کیا مطلب۔

مسٹر جیلانی نے کہاکہ ایودھیا مسئلہ وقف بورڈ کے صدر وسیم رضوی کا گھر نہیں ہے کہ جب چاہے کسی سے سمجھوتہ کرلیں۔ کیا کوئی تاج محل کے بارے میں سمجھوتہ کرسکتا ہے۔ مسٹر رضوی کی تجویز تاج محل کے بارے میں سمجھوتہ کرنے جیسی ہے۔انہوں نے کہاکہ شیعہ طبقہ نے بھی مسٹر رضوی کی تجویز کو ٹھکرا دیا تھا۔ آل انڈیا شیعہ پرسنل لا بورڈ کے ترجمان مولانا یعسوب عباس نے کہاکہ ان کی کمیونٹی پرسنل لا بورڈ کے ساتھ ہے۔ پرسنل لا بورڈ کا فیصلہ ہی شیعہ کمیونٹی کے لئے قابل قبول ہوگا۔پرسنل لا بورڈ نے کئی مرتبہ کہا ہے کہ اس تاریخی مسئلہ پر سپریم کورٹ کا فیصلہ ہی قبول کیا جائے گا۔

اجودھیا مسئلہ  وسیم رضوی کا گھر نہیں کہ جب چاہیں کسی سے سمجھوتہ کرلیں : ظفریاب جیلانی

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز