زکوٰۃ فاؤنڈیشن آف انڈیا کے 16 مسلم بچوں نے نکالا یو پی ایس سی، ایسے ہوتا ہے داخلہ

Jun 01, 2017 03:07 PM IST | Updated on: Jun 01, 2017 03:07 PM IST

نئی دہلی۔ زکوٰۃ فاؤنڈیشن آف انڈیا کی مدد سے اس بار 16 مسلم نوجوانوں نے سول سروس کا امتحان پاس کیا ہے۔ 16 نوجوانوں میں چار لڑکیاں بھی شامل ہیں۔ لیکن سول سروس امتحان کی تیاریوں کے لئے زکوٰۃ فاؤنڈیشن کی مدد حاصل کرنا آسان نہیں ہے۔ زکوٰۃ کی مدد حاصل کرنے کے لئے پہلے سول سروس پری امتحان سطح کا امتحان پاس کرنا ہوتا ہے۔ اس کے بعد انٹرویو بھی پاس کرنا ہوتا ہے۔ زکوٰۃ فاؤنڈیشن کی مدد حاصل کرنے کا کیا ہے طریقہ اور کس طرح تیاری کراتی ہے نوجوانوں کو، آئیے جانتے ہیں خود زکوٰۃ فاؤنڈیشن کے صدر ڈاکٹر سید ظفر محمود سے جو خود بھی سول سروس سے ریٹائرڈ ہیں۔

آل انڈیا سطح پر ہوتا ہے امتحان اور انٹرویو

زکوٰۃ فاؤنڈیشن آف انڈیا کے 16 مسلم بچوں نے نکالا یو پی ایس سی، ایسے ہوتا ہے داخلہ

فائل فوٹو: سول سروس کے کامیاب امیدوار

ظفر محمود بتاتے ہیں کہ اپریل کے آخری اتوار کو ہم قومی سطح پر تحریری امتحان کراتے ہیں۔ یہ امتحان دہلی میں ہوتا ہے۔ تین سینٹر سرینگر، ملا پورم (کیرالہ) اور کولکتہ میں ہم خود جاکر امتحان لیتے ہیں۔ تحریری امتحان کا پیپر سول سروس کے پری امتحان میں آنے والے سوالات کی سطح کا ہوتا ہے۔ امتحان پاس کرنے والے امیدواروں کا سول سروس کے ریٹائرڈ اور سروس کر رہے حکام کا پینل انٹرویو لیتا ہے۔ تحریری امتحان کے لئے نومبر میں آن لائن درخواستیں لی جاتی ہیں۔

لڑکیوں کے لئے سیٹ کی نہیں ہے کوئی حد

ڈاکٹر ظفر کا کہنا ہے کہ ایک بیچ کے لئے ہم 50 لڑکوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ لیکن لڑکیوں کے لئے سیٹ کی کوئی حد نہیں ہے۔ تحریری امتحان اور انٹرویو پاس کرنے کے بعد چاہے جتنی لڑکیاں کوچنگ کے لئے آ سکتی ہیں۔ حالانکہ ابھی تک ایک بیچ میں 10 سے 12 لڑکیاں آتی ہیں، جس میں تین سے پانچ لڑکیاں کامیاب ہو رہی ہیں۔

زکوٰۃ فاؤنڈیشن اس طرح کراتا ہے امتحان کی تیاری

ڈاکٹر ظفر کا کہنا ہے کہ دہلی میں ہمارے پاس چار ہاسٹل ہیں۔ سب سے پہلے ہم منتخب کردہ لڑکے لڑکیوں کو دہلی کی کچھ الگ الگ کوچنگ میں داخلہ دلاتے ہیں۔ اس کا خرچ زکوٰۃ فاؤنڈیشن ہی اٹھاتا ہے۔ کوچنگ میں پڑھائی کرنے کے بعد شروع ہوتی ہے زکوٰۃ فاؤنڈیشن کی تعلیم۔

زکوٰۃ فاؤنڈیشن کے صدر ڈاکٹر سید ظفر محمود: فائل فوٹو زکوٰۃ فاؤنڈیشن کے صدر ڈاکٹر سید ظفر محمود: فائل فوٹو

ہاسٹل میں لائبریری اور ريڈنگ روم بنائے گئے ہیں

گروپ ڈسکشن کے لئے ایک ہال بنایا گیا ہے۔

قومی اور بین الاقوامی مسائل پر پینل کے ساتھ بحث کرائی جاتی ہے۔

حال ہی میں جی ایس ٹی پر بحث کرنے کے لئے ریونیو سروس کے ریٹائرڈ اور سرونگ حکام کو بلایا گیا تھا۔

ملک کے مختلف حصوں سے جمع کر وقتا فوقتا اسٹڈی مٹیریل دیا جاتا ہے۔

وہاٹس ایپ گروپ پر اندرون و بیرون ملک ہر روز گھٹنے والے واقعات کی معلومات دی جاتی ہے۔

پری اور اصل امتحان پاس کرنے کے بعد انٹرویو کی تیاری کرائی جاتی ہے۔

زکوٰۃ فاؤنڈیشن کا پینل ایک امیدوار کا تین بار انٹرویو لیتا ہے۔

پینل میں سول سروس کے ریٹائرڈ اور سرونگ افسر شامل ہیں۔

سول سروس کی طرح سے فل ڈریس میں انٹرویو کی ریہرسل کرائی جاتی ہے۔

حکام کا پینل ایک دن میں پانچ امیدواروں کا انٹرویو لیتا ہے۔

یہی پینل اس کے بعد امیدواروں کو ان کی خامیاں بتاتے ہوئے اصلاح کے لئے تجاویز دیتا ہے۔

نوٹ: ڈاکٹر ظفر بتاتے ہیں کہ ہاسٹل میں امیدوار صرف پڑھتے ہیں، کھانا کھاتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں۔

زکوٰۃ فاؤنڈیشن اس طرح جٹاتا ہے اقتصادی مدد

زکوٰۃ فاؤنڈیشن ایک این جی او ہے۔ یہ مکمل طور پر دوسرے لوگوں کی طرف سے کی گئی مدد سے ہی چلتا ہے۔ مدد کے طور پر زکوٰۃ فاؤنڈیشن کو نام کے مطابق زکوٰۃ، صدقہ، امداد اورچیریٹی کی شکل میں پیسہ ملتا ہے۔ اسی کا استعمال زکوٰۃ فاؤنڈیشن سرسید کوچنگ اینڈ گائیڈنس سینٹر فار سول سروس کو چلانے میں کرتا ہے۔

کس طرح پڑی زکوٰۃ فاؤنڈیشن کی بنیاد

ڈاکٹر ظفر کا کہنا ہے کہ وہ جب اے ایم یو میں پڑھتے تھے وہ خود اور ان کے بہت سے دوست سول سروس کی تیاری کرنا چاہتے تھے۔ لیکن مدد کرنے والا کوئی کوچنگ سینٹر نہیں تھا۔ دوسرا یہ کہ میں خود بھی سچر کمیٹی میں رہا تھا۔ رپورٹ میں جو حال میں نے دیکھا تو اس کے بعد لگا کہ واقعی سول سروس کی تیاری کرانے کے لئے اس طرح کا کوئی سینٹر ہونا ضرور چاہئے۔

ناصر حسین کی رپورٹ

 

 

 

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز