جموں وکشمیر: جنگجو کمانڈر ذاکر موسیٰ کا حزب المجاہدین سے علیحدگی کا اعلان

May 13, 2017 07:05 PM IST | Updated on: May 13, 2017 09:27 PM IST

سری نگر۔ وادی کشمیر میں جنگجو کمانڈر ذاکر رشید عرف ذاکر موسیٰ کے آڈیو بیانات جس میں انہیں وادی میں شریعت کے نفاذ کی وکالت کرتے ہوئے سنا جاسکتا ہے، نے سوشل میڈیا بالخصوص فیس بک پر زبردست بحث چھیڑ دی ہے۔ جہاں ذاکر موسیٰ نے جمعہ کو اپنے ایک آڈیو بیان میں کہا کہ ’وہ کشمیر میں شریعت نافذ کرنے کے لئے لڑرہے ہیں اور جو علیحدگی پسند رہنما اس راہ میں کانٹا بنیں گے، اُن کو لال چوک میں لٹکایا جائے گا‘، وہیں اس بیان پر چوطرفہ تنقید کی زد میں آنے کے بعد ذاکر نے ہفتہ کو ایک اور آڈیو بیان جاری کیا اور کہا کہ انہوں نے ’لال چوک میں لٹکانے‘ کی بات علیحدگی پسند رہنماؤں کے لئے نہیں کہی ہے۔ انہوں نے اپنے تازہ آڈیو بیان میں اپنے سابقہ بیان پر ڈٹے رہنے کی بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کشمیر میں ’آزادی برائے سیکولر اسٹیٹ‘ کے لئے نہیں بلکہ ’آزادی برائے اسلام‘ اور شریعت نافذ کرنے کے لئے لڑرہے ہیں۔ جنگجو تنظیم حزب المجاہدین کی جانب سے ذاکر موسیٰ کے بیان سے دوری اختیار کئے جانے پر ذاکر نے اپنے نئے آڈیو بیان میں حزب المجاہدین سے ہمیشہ کے لئے علیحدگی اختیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ذاکر موسیٰ نے اپنے آڈیو بیان میں کہا ہے ’میرے گذشتہ آڈیو بیان کے ذریعے یہاں کشمیر میں بہت کنفیوژن پیدا کیا گیا ہے۔ میں اپنے بیان پر قائم ہوں، لیکن ایک بات میں کہنا چاہتا ہوں کہ میں نے وہ باتیں کسی مخصوص انسان یا گیلانی صاحب کے بارے میں نہیں کہی ہیں۔ میں نے صرف ان لوگوں کے لئے کہی ہیں جو اسلام کے خلاف ہیں۔ جو آزادی برائے سیکولر اسٹیٹ کی بات کررہے ہیں۔ اگر ہم آزادی برائے سیکولر اسٹیٹ کے لئے لڑرہے ہیں تو میرے خیال سے ہم شہید نہیں ہورہے ہیں۔ ہماری نیت یہی ہونی چاہیے کہ ہمیں آزادی اسلام کے لئے لینی ہے، کسی سیکولر اسٹیٹ کے لئے نہیں‘۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر ہمیں آزادی مل گئی تو ہمیں بعد میں اُن لوگوں سے لڑنا پڑے گا جو سیکولر اسٹیٹ کے خواہاں ہیں۔

جموں وکشمیر: جنگجو کمانڈر ذاکر موسیٰ کا حزب المجاہدین سے علیحدگی کا اعلان

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز