اقوام متحدہ کی نئی پابندیوں پر شمالی کوریا کا شدید ردعمل ، اقدام جنگ قرارد یا

Dec 24, 2017 01:20 PM IST | Updated on: Dec 24, 2017 01:20 PM IST

پیانگ یانگ: شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے عائد کی گئیں نئی اقتصادی پابندیاں شمالی کوریا کے خلاف اقدام جنگ ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شمالی کوریا پر عائد نئی اقتصادی پابندیوں پر اپنے ردعمل میں شمالی کوریا کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ نئی پابندیاں اس کو اقتصادی بحران کا شکار کرنے کےلئے ہیں، امریکہ اپنی ایٹمی طاقت کے زور پرخوفزدہ کرنے کی کوشش کررہا ہے اور ہمارے ملک پرسخت سے سخت پابندیاں عائد کرنے کےلئے دباؤ بڑھارہا ہے۔شمالی کوریا نے اپنے بیان میں اقوام متحدہ کی پابندیوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام شمالی کوریا کی خودمختاری کےخلاف اور جنگ کے اقدامات کے مترادف ہے۔

خیال رہے کہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل نے شمالی کوریا کی طرف سے گزشتہ 28نومبرکو بیلسٹک میزائل کے تجربہ سمیت نیوکلیائی پروگرام جاری رکھنے کی وجہ سے اس کے خلاف سختی برتتے ہوئے نئی پابندیاں عائدکی ہیں ۔ متفقہ طور پر منظور کی گئی قرارداد میں 15رکنی سلامتی کونسل نےیہ بھی فیصلہ کیا کہ اقوام متحدہ کے سبھی رکن ممالک شمالی کوریا کو خام تیل ،ریفائن پٹرولیم مصنوعات ،اور مختلف طرح کے سازوسامان اور خام مال کی فروخت یا منتقلی اور راست یا بالواسطہ فراہمی پر روک لگائیں گے ۔

اقوام متحدہ کی نئی پابندیوں پر شمالی کوریا کا شدید ردعمل ، اقدام جنگ قرارد یا

یہ پابندیاں رکن ممالک کے علاقوں ،شہریوں ،انکے پرچم والے جہازوں ،طیاروں ،پائپ لائنوں ،ریل لائنوں یا موٹر گاڑیوں کے سلسلہ میں نافذہونگی۔ سلامتی کونسل نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ رکن ممالک سبھی شمالی کوریائی شہریوں ،جو اس رکن ملک کے اختیاروالے خطہ میں آمدنی کے لئے اور سبھی سرکاری سیکورٹی کی نگرانی میں غیر ممالک میں موجودہیں ،کو فورا لیکن 24ماہ سے زیادہ مدت تک نہیں ،واپس انکے ملک واپس بھیجیں گے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز