کوئی مذہب دہشت گردی کی تعلیم نہیں دیتا، نہ ہی اس کی تبلیغ کرتا ہے : وینکیا

نئی دہلی۔ نائب صدر ایم وینکیا نائیڈو نے کہا کہ دہشت گردی کا کوئی ذات یا مذہب نہیں ہے اور یہ سماج اور انسانیت کے لئے ایک خطرہ ہے۔

Aug 31, 2017 03:16 PM IST | Updated on: Aug 31, 2017 03:16 PM IST

نئی دہلی۔  نائب صدر ایم وینکیا نائیڈو نے کہا کہ دہشت گردی کا کوئی ذات یا مذہب نہیں ہے اور یہ سماج اور انسانیت کے لئے ایک خطرہ ہے۔ انہوں نے کشمیر کی وادی میں مذہب کا استعمال اکسانے اور دہشت گردی کے لئے بالواسطہ طور پر پاکستان کی کوششوں کا حوالہ دیا اور کہا، ’’کوئی مذہب انتہا پسندی نہیں سکھاتا ہے نہ ہی اس کی تبلیغ کرتا ہے اور نہ اس کی حمایت کرتا ہے۔ ایک دہشت گرد انسان نہیں ہوتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں، ایک دہشت گرد ’راکشش‘ ہوتا ہے۔ مذہب اور دہشت گردی کو ملانا نہیں چاہئے لیکن کچھ بیرونی عناصر ایسا کر رہے ہیں۔ ہمیں اس طرح کی کوششوں سےمحتاط رہنا چاہئے‘‘۔

مسٹر نائیڈو نے اسلامک کلچرل سنٹرکی طرف سے منعقدہ ڈاکٹر  اے پی جے عبدالکلام کے دوسرے یادگار ی خطبہ میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ذات پات کے خلاف آواز بلند کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا، ’’میں اب سیاستدان نہیں ہوں اورنہ میں کسی بھی پارٹی سے تعلق رکھتا ہوں۔ ایک سیاست دان کو اس کے کردار، اہلیت اور صلاحیت کی بنیاد پر منتخب کرنا چاہئے، ذات کی بنیاد پر نہیں‘‘۔

کوئی مذہب دہشت گردی کی تعلیم نہیں دیتا، نہ ہی اس کی تبلیغ کرتا ہے : وینکیا

نائب صدر جمہوریہ وینکیا نائیڈو: فائل فوٹو، رائٹرز

انہوں نے کہا کہ ذات، جنس، کمیونٹی، زبان اور مذہب کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے طلباء سے اپیل کی کہ وہ جتنی زیادہ زبان سیکھ سکتے ہیں اتنی سیکھیں، لیکن یہ پہلی ترجیح اپنی مادری زبان کو دیں خواہ وہ اردو، ہندی، تیلگو، تمل یا بنگالی ہو۔ انہوں نے کہا، "تمام زبانیں خوبصورت ہیں اور وہ لوگ یکجا کرتے ہیں‘‘۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز