مشرق وسطی میں بحران مزید سنگین ، یو اے ای نے اپنے شہریوں کے قطر کے حق میں بولنے پر لگائی پابندی

Jun 07, 2017 11:21 PM IST | Updated on: Jun 07, 2017 11:56 PM IST

ریاض : مشرق وسطیٰ میں بحران مزید سنگین ہوتا جارہا ہے ۔ سعودی عرب سمیت متعدد عرب ممالک کے ذریعہ قطر سے سفارتی تعلقات منقطع کرلینے سے خطہ میں بحرانی کیفیت پیدا ہوگئی ہے ۔ اس حالیہ بحران کے بعد سے عرب دنیا میں سوشل میڈیا پر بھی کافی بحث جاری ہے اور عرب شہری قطر کے حق ميں اور اس کی مخالف میں اپنے جذبات کا اظہار کر رہے ہیں۔

تاہم متحدہ عرب امارات اس پر لگام لگنے کیلئے اپنے شہریوں پر قطر کی حمایت میں بات کرنے یا اس ملک کے لیے ہمدردی کے اظہار پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ایسا کرنے والوں کو پندرہ سال قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔علاوہ ازیں پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کو قید کے علاوہ پچاس ہزار درہم جرمانے کی سزا بھی سنائی جا سکتی ہے۔

مشرق وسطی میں بحران مزید سنگین ، یو اے ای نے اپنے شہریوں کے قطر کے حق میں بولنے پر لگائی پابندی

متحدہ عرب امارات کے اخبار گلف نیوز نے ملک کے اٹارنی جنرل حماد سیف الشمسی کے بیان کو شائع کیا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ جو بھی شخص سوشل میڈیا پر یا کسی اور ذریعہ سے قطر کے حق میں کسی بھی طرح کی ہمدردی کا اظہار کرے گا اور اس معاملہ پر متحدہ عرب امارات کے موقف پر سوال اٹھائے گا، اس کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔

قابل ذکر ہے کہ متحدہ عرب امارات نے سعودی عرب سمیت عرب دنیا کی ديگر طاقت ور ریاستوں کے ساتھ خلیجی ریاست قطر سے رواں ہفتہ سفارتی تعلقات ختم کر دئے تھے ۔ ان ممالک نے قطر پر دہشت گرد گروہوں اور ایران کی حمایت کا الزام عائد کیا ہے۔ تاہم قطر ان الزامات کو مسترد کر چکا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز