ترکی میں او آئی سی اجلاس ، مقبوضہ بیت المقدس کو فلسطینی دارالحکومت تسلیم کرنے کا مطالبہ

امریکہ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم ) کو اسرائیلی دارالحکومت قراردینے کے مسئلے پر اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا ہنگامی اجلاس جاری ہے اور ترکی نے عالمی برادری سے یروشلم کو فلسطینی دارالحکومت تسلیم کرنے کی درخواست کی ہے۔

Dec 13, 2017 04:54 PM IST | Updated on: Dec 14, 2017 04:20 PM IST

استنبول: اسلامی ممالک کے تعاون کی تنظیم (او آئی سی) کا ہنگامی اجلاس آج ترکی کے شہر استنبول میں ہو رہا ہے ، جس میں امریکہ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیے جانے کے بعد کے لائحہ عمل کا جائزہ لیا جائے گا۔ 57 رکنی تنظیم او آئی سی کی صدارت اس وقت ترکی کے پاس ہے اور ترک صدر طیب رجب اردوغان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اقدام کے خلاف آواز اٹھا چکے ہیں۔ ترکی نے عالمی برادری سے یروشلم کو فلسطینی دارالحکومت تسلیم کرنے کی درخواست کی ہے۔ اجلاس میں اسلامی ممالک کے سربراہان مملکت شرکت کررہے ہیں۔ یہ ہنگامی اجلاس ترکی کے صدررجب طیب اردوان نے تنظیم کے چیئرمین کی حیثیت سے طلب کیا ہے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ اسرائیل قابض اور دہشت گرد ریاست ہے، صہیونی فوج فلسطینیوں کے بچوں کو بھی شہید کررہی ہے، ہم مسلمانوں کے خلاف مزید مظالم برداشت نہیں کر سکتے، اسرائیل دوسرے علاقوں پر قبضہ کرکے اپنا رقبہ تیزی سے بڑھا رہا ہے اور فلسطین کے رقبے میں نمایاں کمی آرہی ہے، مقبوضہ بیت المقدس پر امریکی فیصلہ اخلاقی اقدار کے منافی ہے اور یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

ترکی میں او آئی سی اجلاس ، مقبوضہ بیت المقدس کو فلسطینی دارالحکومت تسلیم کرنے کا مطالبہ

ترک وزیر خارجہ مولود چاوش اولو نے او آئی سی کے وزرائے خارجہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری مشرقی یروشلم کو فلسطین کا دارالحکومت تسلیم کرے۔ انہوں نے کہا کہ تمام ممالک کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا جائے اور اس کے لیے سب کو مل کر کوشش کرنا ہو گی۔ چاؤش اولو نے کہا کہ تمام مسلم ممالک ایک آواز ہوکر دنیا کے دوسرے ممالک کو قائل کریں کہ وہ 1967 کی فلسطینی سرحدوں کے مطابق فلسطینی ریاست کو تسلیم کریں اور مشرقی یروشلم کو اس ریاست کا دارالحکومت تسلیم کریں۔

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے کہا کہ امریکا کا بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، فلسطین کے حل کے بغیر مشرق وسطی میں امن نہیں آسکتا، ہم بیت المقدس کا دفاع کرنا جانتے ہیں، امریکی صدر کا فیصلہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے جس سے انتہا پسندوں کو فائدہ پہنچے گا، ہم آزاد فلسطینی ریاست کے مطالبے سے کبھی دستبردار نہیں ہونگے۔

اسلامی سربراہی کانفرنس کے ہنگامی سربراہی اجلاس میں امریکا کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کواسرائیلی دارالحکومت قرار دینے کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر غور کیا جارہا ہے۔ اس موقع پر رکن ممالک کے سربراہان القدس کے حساس معاملے پر مشترکہ موقف اپنانے اور امریکی انتظامیہ کو اپنے فیصلے پرنظر ثانی پرمجبور کرنے کی حکمت عملی بھی طے کریں گے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز