موصل میں اب بھی ایک لاکھ بچے خطرات سے گھرے ہوئے ہیں: اقوام متحدہ

Jun 06, 2017 10:36 AM IST | Updated on: Jun 06, 2017 10:36 AM IST

بغداد۔  اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) کے مقبوضہ شمالی عراق کے موصل شہر میں اب بھی ایک لاکھ سے زیادہ بچے انتہائی خطرناک حالات میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسیف) نے ایک بیان میں کہا کہ آئی ایس ان پھنسے ہوئے بچوں کو جنگ کے وقت انسانی ڈھال بنا کر ان کا استعمال کرتا ہے۔ کچھ بچوں کو تو جنگ میں حصہ لینے کے لئے مجبور کیا جا رہا ہے۔ یونیسیف نے کہا، "مغربی موصل سے ہمیں تشویشناک رپورٹیں حاصل ہو رہی ہیں۔ یہاں پر شہریوں کے ساتھ ساتھ بچوں کو مارا جاتا ہے اور اپنے مفاد کے لئے آئی ایس ان بچوں کا استعمال کر رہا ہے۔

 غور طلب ہے کہ سات لاکھ افراد،موصل کا تقریبا ایک تہائی حصہ پہلے ہی یہاں سے نقل مکانی کرچکا ہے۔ ان میں سے کئی تو اپنے دوستوں، رشتہ داروں یا پھر کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔

موصل میں اب بھی ایک لاکھ بچے خطرات سے گھرے ہوئے ہیں: اقوام متحدہ

موصل،تصویر، رائٹرز

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز