آسکر ایوارڈز میں ’مون لائٹ‘ کو بہترین فلم کا اعزاز

لاس اینجلس۔ امریکی شہر لاس اینجلس میں 89ویں آسکر ایوارڈز میں ’مون لائٹ‘ نے بہترین فلم کا ایوارڈ حاصل کر لیا ہے۔

Feb 27, 2017 03:46 PM IST | Updated on: Feb 27, 2017 03:48 PM IST

لاس اینجلس۔  امریکی شہر لاس اینجلس میں 89ویں آسکر ایوارڈز میں ’مون لائٹ‘ نے بہترین فلم کا ایوارڈ حاصل کر لیا ہے۔ مہرشالا علی نے بہترین معاون اداکار کا ایوارڈ اپنے نام کر لیا۔ وہ 2014 کے بعد سے یہ انعام جیتنے والے پہلے سیاہ فام اداکار ہیں۔ ان کے علاوہ بہترین معاون اداکارہ کا انعام ایک اور سیاہ فام اداکارہ وایولا ڈیوس نے جیت لیا۔ انھوں نے ’فینسز` میں روز نامی کردار کے روپ میں اداکاری کے جوہر دکھائے تھے۔ ڈیوس اور علی کے ساتھ اس زمرے میں کل سات فنکاروں کو نامزد کیا گیا تھا۔ رومانس سے بھری موسیقی کے فلم ’لا لا لینڈ‘ کو سب سے زیادہ 14 زمروں میں نامزد کیا گیا تھا جن میں سے دو میں اسے ایوارڈ ملا ہے۔ امید ظاہر کی جا رہی تھی کہ یہ فلم کُل 11 آسکر جیت کر ’ٹائٹینک‘ اور 'لارڈ آف دی رنگس: دی ریٹرن آف دی کنگ' کے ریکارڈ کی برابری کرے گی لیکن کچھ تکنیکی زمروں میں ایوارڈ حاصل نہ کرنے کی وجہ سے یہ پچھڑ گئی۔

ڈزنی اینی میشن اسٹوڈیوز کی جانوروں پر مبنی کارٹون فلم ’زوٹوپيا‘ کو بہترین اینی میٹڈ فیچر فلم کے اکیڈمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ فلم میں ایک خرگوش کی کہانی ہے جو پولیس افسر بنتا ہے۔ یہ سال کی باکس آفس سپر ہٹ میں شامل ہے اور دنیا بھر میں اس کے ایک ارب سے زیادہ ٹکٹ فروخت ہوئی ہیں۔ فلم کے معاون ڈائریکٹر بیرن ہاورڈ نے انعام حاصل کیا۔ ایک اور معاون ڈائریکٹر رچ مور نے کہا کہ وہ اس کہانی کو پسند کرنے کے لئے دنیا بھر کے شائقین کے شکر گزار ہیں۔ تقریب میں اس وقت غلط فہمی پھیل گئی جب وارن بیٹی نے بہترین فلم کے لیے غلطی سے ’لا لا لینڈ‘ کا نام لے لیا، حالانکہ یہ ایوارڈ مون لائٹ کے حصے میں آیا ہے۔

آسکر ایوارڈز میں ’مون لائٹ‘ کو بہترین فلم کا اعزاز

بہترین اداکار کا انعام کیسی ایفلیک نے ’مانچسٹر بائی دا سی‘ پر جب کہ بہترین اداکارہ کا طلائی مجسمہ ایما اسٹون نے ’لا لا لینڈ‘ میں بہترین اداکاری پر حاصل کیا۔ توقع تھی کہ ’لا لا لینڈ‘ 14 نامزدگیوں کے ساتھ زیادہ ایوارڈ حاصل کرے گی لیکن وہ صرف چھ ایوارڈ حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکی۔ ’مون لائٹ‘ اور ’ہیک سا رِج‘ نے تین تین ایوارڈ جیتے۔

پروگرام کے میزبان جمی کِمل نے پروگرام کا رنگ شروع ہی میں یہ کہہ کر متعین کر دیا کہ مجھے لگتا ہے کہ کوئی اداکار یہاں آ کر ایسی تقریر کرے گا کہ امریکی صدر صبح پانچ بجے باتھ روم جا کر اس کے بارے میں ٹویٹ کر دیں گے۔ انھوں نے صدر ٹرمپ کی جانب سے معروف اداکارہ میرل سٹریپ پر کی جانے والی تنقید کا بھی مذاق اڑایا۔ ایرانی ہدایت کار اصغر فرہادی کی فلم ’فروشندہ‘ نے بہترین غیرملکی فلم کا اعزاز اپنے نام کیا۔ اس سے قبل 2012 میں بھی اصغر فرہادی ہی کی فلم ’جدائی نادر از سیمیں‘ کو یہ ایوارڈ مل چکا ہے۔ تاہم اصغر فرہادی ڈونلڈ ٹرمپ کے سات اسلامی ملکوں کے شہریوں پر امریکہ میں داخلے پر پابندی کے انتظامی فیصلے کے خلاف بطورِ احتجاج اس تقریب میں شرکت نہیں کر رہے ہیں۔ ان کی بجائے ان کا انعام ایرانی نژاد امریکی خلاباز انوشہ انصاری نے حاصل کیا۔ آسکر ایوارڈز کی تقریب میں عام طور پر صرف مرنے والے فنکاروں کا انعام دوسروں کو وصول کرنے دیا جاتا ہے لیکن اس موقعے پر اکیڈمی ایوارڈز نے اپنے قوانین میں ترمیم کی ہے۔ میکسیکن اداکار گیل گارسیا نے اسٹیج پر آ کر کہا: ’بطور ایک میکسیکن اور بطور ایک انسان میں کسی بھی ایسی دیوار کے خلاف ہوں جو ہمیں جدا کرے۔‘

oscar award

مختصر فلم کے زمرے میں ’پائپر‘ نے انعام جیتا۔ بہترین ہدایت کار کا انعام بھی لا لا لینڈ کے ڈیمیئن چیزل نے جیتا۔ وہ آسکر ایوارڈ جیتنے کا کم عمر ترین ہدایت کار بن گئے ہیں۔ انھوں نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ فلم محبت کے بارے میں ہے اور میں خوش قسمت تھا کہ اسے بناتے ہوئے محبت میں گرفتار ہو گیا۔‘

اب تک کے اہم انعامات یہ ہیں:

بہترین فلم: مون لائٹ

بہترین اداکارہ: ایما اسٹون

بہترین اداکار: کیسی ایفلیک

بہترین معاون اداکار: مہرشالا علی

بہترین معاون اداکارہ: وایولا ڈیوس

بہترین ہدایت کار: ڈیمیئن چیزل

بہترین اوریجنل اسکرین پلے: مانچسٹر بائی دا سی

بہترین اسکور: لا لا لینڈ

بہترین دستاویزی فلم: او جے، میڈ ان امریکہ

بہترین غیرملکی فلم: فروشندہ (ایران)

بہترین اینی میٹڈ فلم: زوٹوپیا

بہترین مختصر فلم: پائپر

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز