اسامہ بن لادن سے ضبط دستاویزات میں القاعدہ اور ایران کے درمیان تعلقات کا انکشاف

Nov 03, 2017 01:30 PM IST | Updated on: Nov 03, 2017 01:30 PM IST

نیویارک : امریکی حکام کے ذریعہ جاری ہونے والی دستاویزات کی نئی قسط میں القاعدہ اور ایران کے درمیان تعلقات سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بن لادن کی رہائش گاہ سے ملنے والی دستاویزات میں القاعدہ اور ایران کے درمیان گہرے مراسم بتائے جاتے ہیں۔ ان دستاویزات کا کاتب القاعدہ کا کوئی اہم لیڈر ہے۔ ان دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ ایران نے القاعدہ کو ہر قسم کی سہولت مہیا کی ہیں جن میں اسلحہ، رقوم اور لبنان میں قائم حزب اللہ کے ٹریننگ کیمپوں میں القاعدہ جنگجوؤں کو تربیت شامل ہیں۔ اس کے بدلے میں القاعدہ نے سعودی عرب اور خلیجی ملکوں میں امریکی مفادات پر حملے کیے۔

القاعدہ دہشت گردوں کو سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے ایران نے انہیں ویزے دیئے۔ یہی نہیں کئی دہشت گردوں کو ایران میں پناہ دی گئی۔ القاعدہ کمانڈر ابو حفص الموریتانی نے 11ستمبر کے واقعے سے قبل اپنے کئی ساتھیوں کو ایران میں پناہ دلوانے میں کامیابی حاصل کرلی تھی۔رپورٹ کے مطابق القاعدہ کی ایران کے خلاف کوئی جنگ نہیں تھی۔ دونوں میں سب سے بڑی قدر مشترکہ ’امریکا‘ تھا کیونکہ القاعدہ اور ایران دونوں امریکا کو اپنا بدترین دشمن خیال کرتے۔

اسامہ بن لادن سے ضبط دستاویزات میں القاعدہ اور ایران کے درمیان تعلقات کا انکشاف

قابل ذکر ہے کہ اکستان کے ایبٹ آباد میں 2011 میں امریکی خفیہ سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کی جانب سے دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ میں کی جانیوالی کارروائی کے دوران ضبط کردہ دستاویزات کا بڑا حصہ جاری کردیا گیاہے۔آن لائن کردہ ان دستاویزات کی تعداد سی آئی اے کی طرف سے 4 لاکھ 70 ہزار بتائی گئی ہے۔

ان دستاویزات سے باخبر واشنگٹن تھنک ٹینک کے محققین کے مطابق ان میں اسامہ بن لادن کے بیٹے کی شادی کی ویڈیو اور القاعدہ کے سابق سربراہ کی ذاتی ڈائری بھی شامل ہے۔حمزہ بن لادن کی شادی کی ویڈیو جاری کرنے کا مقصد غالباً دنیا کو اسامہ بن لادن کے چہیتے بیٹے کی جوانی کی تصویر دکھانا ہے جسے ممکنہ طور پر ایران میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ یکم اور 2 مئی 2011 کی درمیانی رات میں امریکی نیوی سیل 6 کے کمانڈوز نے پاکستان کے علاقے ایبٹ آباد کے ایک کمپاؤنڈ میں کارروائی کی تھی جس کے حوالے سے ا دعویٰ کیاگیا تھا کہ اس کارروائی کے دوران دنیا کے انتہائی مطلوب دہشت گرد اور القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو ہلاک کر دیا گیا۔امریکی دعوؤں کے مطابق کارروائی کے بعدامریکی کمانڈوز اسامہ بن لادن کی لاش جہاں اپنے ہمراہ لے گئے وہیں واپسی کے اس سفر میں امریکی فوجیوں نے اپنا ایک ہیلی کاپٹر بھی تباہ کردیا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز