روہنگیا بحران :  آکسفورڈ یونیورسٹی نے آنگ سانگ سوچی کی تصویر کالج کیمپس سے ہٹائی

Oct 01, 2017 01:07 PM IST | Updated on: Oct 01, 2017 01:07 PM IST

لندن : میانمار میں روہنگیا بحران میں ملک کی لیڈر آنگ سانگ سوچی کے کردار کا جائزہ لیتے کے بعد آکسفورڈ یونیورسٹی نے ان کی ایک تصویر اپنے کالج سے نکال دی ہے۔ خیال رہے کہ میانمار میں کشیدگی کے باعث چار لاکھ روہنگیا مسلمانوں کو ملک سے جان بچا کر بھاگنا پڑا ہے اور انھوں نے بنگلہ دیش میں پناہ لی ہے۔اس بحران کو اقوام متحدہ نے نسل کشی قرار دیا ہے اور اس حوالے سے آنگ سانگ سوچی پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

تاہم یونیورسٹی نے اب تک تصویر کو ہٹانے کی وجہ واضح نہیں کی ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق یونیوسٹی کے کمیونیکیشن منیجر کا کہنا ہے کہ تصویر کو ایک دیگر مقام پر رکھا گیا ہے۔خیال ہے کہ یونیورسٹی نے یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا ہے جب کہ چند دنوں میں ہی نئے تعلیمی سال کی شروعات ہوگی نئے طلبہ کی آمد ہوگی ۔

روہنگیا بحران :  آکسفورڈ یونیورسٹی نے آنگ سانگ سوچی کی تصویر کالج کیمپس سے ہٹائی

آنگ سان سوکی: فائل فوٹو

آکسفورڈ یونیورسٹی کے سینٹ ہیوز کالج نے ان کی تصویر اتار کر اس کی جگے ایک جاپانی پینٹگ لگانی ہے۔ نئی پینٹگ اسی ماہ کے آغاز میں کالج کو دی گئی تھی اور اس وقت کالج کی مرکزی بلڈنگ میں آویزاں ہے۔

آنگ سانگ سوچی ماضی میں ایک قیاسی قیدی رہ چکی ہیں تاہم 2015 کے انتخابات کے بعد سے ان کی پارٹی ملک میں برسرِاقتدار ہے۔نوبل امن انعام یافتہ آنگ سانگ سوچی نے گذشتہ ہفتے اپنی تقریر کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تنقید تو کی تاہم انھوں نے ملک کی فوج کی جانب سے نسل کشی کرنے کے حوالے لگے الزامات کا جواب نہیں دیا۔

suu kie

قابل ذکر ہے کہ 1967 میں وہ سینیٹ ہیوز کالج سے گریجویٹ کی تھیں اور جون 2012 انھیں اعزازی ڈگری دی گئی تھی۔ یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ وہ یہ ڈگری منسوخ کرنے کے بارے میں نہیں سوچ رہے۔1886 میں قائم کیا گیا سینٹ ہیوز کالج آکسفورڈ یونیوسٹی کے پرانے ترین کالجز میں سے ایک ہے اور اس میں تقریباً 800 طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز