پاکستان میں اے ٹی سی نے پرویز مشرف کی مچلکہ رقم ضبط کی

اسلام آباد۔ پاکستان میں انسداد دہشت گردی عدالت(اے ٹی سی)نے ججوں کو زبردستی یرغمال بنائے جانے کے معاملے میں سابق فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کو ضمانت پر رہا کئے جانے کے عوض میں ان کے ضمانت کاروں کی جانب سے جمع کرائی گئی دس لاکھ روپے کی مچلکہ رقم کو ضبط کرلی ہے۔

Oct 15, 2017 04:26 PM IST | Updated on: Oct 15, 2017 04:26 PM IST

اسلام آباد۔ پاکستان میں انسداد دہشت گردی عدالت(اے ٹی سی)نے ججوں کو زبردستی یرغمال بنائے جانے کے معاملے میں سابق فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کو ضمانت پر رہا کئے جانے کے عوض میں ان کے ضمانت کاروں کی جانب سے جمع کرائی گئی دس لاکھ روپے کی مچلکہ رقم کو ضبط کرلی ہے۔ روزنامہ دی ڈان کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے جون 2013 میں ملک کے سابق فوجی حکمران کو اس معاملے میں رہا کیا تھا اور انہیں پانچ لاکھ روپے کے دو مچلکہ بھرنے کی ہدایت بھی دی تھی۔ان کی طرف سے دو ضمانت کاروں مشتاق احمد اورراشد محمود نے مچلکہ کی رقم کے طورپر اپنی جائیداد کے دستاویز عدالت میں جمع کرائے تھے۔ لیکن جمعہ کو عدالت میں کارروائی کے دوران دونوں ضمانت کاروں نے اپنی جائیداد سےمنسلک کاغذات واپس کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور یہ کہا تھاکہ اس کے عوض میں وہ دس لاکھ روپے عدالت میں جمع کرادیں گے جنہیں عدالت چاہے تو ضبط کرسکتی ہے۔

عدالت نے پہلے ہی مجرمانہ پینل کوڈ کی دفعہ 514 کے تحت دونوں گارنٹروں کے خلاف کارروائی شروع کردی تھی اور اس میں پروویژن ہے کہ مچلکوں کو رقم کے طورپر تبدیل کیا جاسکتا ہے اسی بنیاد پر عدالت نے انہیں ایسا کرنے کی اجازت دی۔انسداد دہشت گردی عدالت نے دو فروری کو انہیں نوٹس جاری کئے جن میں کہا گیا تھا کہ ان کے ضمانتی بانڈ کو ضبط کیا جا سکتا ہے لیکن اس کے بعد کوئی کارروائی نہیں کی۔ عدالت نے حال ہی میں اپنے حکم میں کہا ہے’’استغاثہ فریق کے دلائل پہلے ہی ختم ہوچکے ہیں اور جنرل مشرف کے خلاف پہلے ہی بے میعادی گرفتاری وارنٹ جاری کئے جاچکے ہیں۔اس معاملے میں مفرور قرار دئے جاچکے جنرل مشرف کے عدالت میں پیش نہ ہونے کی وجہ سے آخر کار ان بانڈز کو ضبط کیا جاتا ہے۔‘‘

پاکستان میں اے ٹی سی نے پرویز مشرف کی مچلکہ رقم ضبط کی

پاکستان کے سابق صدر اور ریٹائرفوجی حکمراں پر ویز مشرف ، فائل فوٹو

قابل ذکر ہے کہ معاملہ تین نومبر 2007 کا ہے جب جنرل پرویز مشرف نے ایمرجنسی کا اعلان کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے 60سے زیادہ ججوں کو یرغمال بنانے کا حکم دیا تھا۔اس معاملے میں مقامی وکیل چودھری محمد اسلم گھمن نے 11اگست 2009 کو جنرل مشرف کےخلاف معاملہ درج کرایا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز