جادھو کی سزائے موت کے خلاف 60 دنوں کے اندر اپیل دائر کی جاسکتی ہے: پاکستان

Apr 12, 2017 09:24 AM IST | Updated on: Apr 12, 2017 09:24 AM IST

نئی دہلی / اسلام آباد۔  پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کل اسلام آباد میں پاکستانی پارلیمنٹ کو بتایا کہ ہندوستانی شہری كلبھوشن جادھو 60 دنوں كے اندر پاکستانی فوجی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر سکتے ہیں۔ گزشتہ روز پاکستان کی ایک فوجی عدالت نے اپنے ایک فیصلے میں ہندوستانی شہری كلبھوشن جادھو کو جاسوسی کے الزام میں سزائے موت کی سنائی تھی۔ پاکستانی وزیر دفاع نے مسٹر جادھو کو سنائی گئی سزائے موت کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسٹر جادھو کے ' اقبالیہ بیان' سے ان پر لگائے گئے تمام الزامات ثابت ہوتے ہیں۔ مسٹر آصف نے کہا کہ مسٹر جادھو کے ' اقبالیہ بیان' سے یہ پتہ چلتا ہے کہ کس بنیاد پر انہیں یہ سزا سنائی گئی لیکن ہندوستان نے کہا ہے کہ پاکستانی فوج کے پاس مسٹر جادھو کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے۔

مسٹر آصف نے کہا کہ"دشمن خواہ سرحد پار سے آئیں یا پاکستان کے اندر سے نکلیں، انہیں سزا ملے گی ، یہاں تک کہ اگر ہندوستان اپنے شہری کے خلاف ان تمام الزامات کو مسترد کرتا ہو یا پھر ان کی پارلیمنٹ پاکستان فوجی عدالت کے فیصلے کی سخت مذمت کرتی ہو۔ اس میں وزیر خارجہ سشما سوراج کا انتباہ بھی شامل ہے کہ اگر سزائے موت پر عمل ہوا تو پاکستان کو دو طرفہ تعلقات میں سنگین نتائج بھگتنے ہوں گے"۔ واضح ر ہے کہ کل ہندوستانی پارلیمنٹ میں وزیر خارجہ سشما سوراج نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ اگر مسٹر جادھو کو پھانسی ہوتی ہے تو یہ منصوبہ بند قتل ہوگا۔ ہندوستانی شہری کو اغوا کرکے اسے پھنسایا گیا ہے اور اس سے رابطہ بھی نہیں کرنے دیا جا رہا ہے۔ محترمہ سوراج نے کہا کہ مسٹر جادھو کو موت کی سزا سنائے جانے کے تین گھنٹے کے اندر حکومت سرگرم ہو گئی اور یہ معاملہ پاکستان کے ساتھ اعلی سطح پر اٹھایا گیا ہے۔

جادھو کی سزائے موت کے خلاف 60 دنوں کے اندر اپیل دائر کی جاسکتی ہے: پاکستان

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز