پاکستان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار احتساب عدالت میں پیش

Oct 12, 2017 06:58 PM IST | Updated on: Oct 12, 2017 06:58 PM IST

اسلام آباد۔ پاکستان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار آمدنی کے معلوم ذرائع سے زائد اثاثے بنانے کے الزام میں آج یہاں احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔ احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر ریفرنس کے سلسلے میں مسٹر ڈار کی احتساب عدالت میں یہ چوتھی پیشی تھی۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے مسٹر ڈار کے خلاف دائر نیب ریفرنس کی سماعت کی، اس دوران نیب کے وکلاء نے مزید دو گواہان کو عدالت میں پیش کردیا۔ ان گواہان میں البرکہ بینک کے نائب صدر طارق جاوید اور نیشنل انویسٹمنٹ ٹرسٹ (این آئی ٹی) کے سربراہ شاہد عزیز شامل ہیں، جنہوں نے عدالت کے سامنے اپنے بیانات قلمبند کرائے۔

شاہد عزیز نے عدالت کو بتایا کہ اسحاق ڈار نے دو سال قبل 2015 میں 12 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی تاہم پاناما پیپرز کیس کا معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد جنوری 2017 میں انہوں نے اپنی رقم واپس نکال لی تھی۔ طارق جاوید نے عدالت کو بتایا کہ مسٹر ڈار نے 1991 میں لاہور میں موجود البرکہ بینک کی برانچ میں اکاؤنٹ کھلوایا تھا جس کے متعلق تمام دستاویزات نیب لاہور کے حکام کو فراہم کر دی گئیں ہیں۔

پاکستان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار احتساب عدالت میں پیش

پاکستان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار، فائل فوٹو: گیٹی امیجیز۔

نیب کے وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ نیب کے پاس اسحٰق ڈار کے خلاف 28 گواہان موجود ہیں جن کو کسی بھی وقت عدالت میں پیش کیا جاسکتا ہے۔ مسٹر ڈار پر 27 ستمبر کو نیب ریفرنسز کے سلسلے میں احتساب عدالت میں ہونے والی سماعت کے دوران فردِ جرم عائد کی گئی تھی، تاہم انہوں نے صحت جرم سے انکار کردیا تھا۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما کیس میں الزامات کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے اپنی حتمی رپورٹ میں کہا تھا کہ اسحاق ڈار کے اثاثوں میں بہت کم عرصے کے دوران 91 گنا اضافہ ہوا اور وہ 90 لاکھ روپے سے 83 کروڑ 10 لاکھ روپے تک جا پہنچے۔جس کے بعد عدالت عظمیٰ نے 28 جولائی کو پاناما پیپرز کیس میں اپنا حتمی فیصلہ سناتے ہوئے نیب کو اسحاق ڈار کے خلاف ا?مدن سے زائد اثاثے رکھنے کے حوالے سے ریفرنس دائر کرنے کی ہدایت جاری کی تھی۔

بعد ازاں نیب نے اسحاق ڈار کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا، جس کے دوران وزیرخزانہ کی آمدنی میں اضافے کے علاوہ فلیگ شپ انویسٹمنٹ، ہارٹ اسٹون پراپرٹیز، کیو ہولڈنگز، کیونٹ ایٹن پلیس، کیونٹ سولین لمیٹڈ، کیونٹ لمیٹڈ، فلیگ شپ سیکیورٹیز لمیٹڈ، کومبر انکارپوریشن اور کیپیٹل ایف زیڈ ای سمیت 16 اثاثہ جات کی تفتیش کی گئی۔ جس کے بعد ان کے خلاف آمدنی سے زائد اثاثے رکھنے کے الزام میں احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کیا گیا۔ اسحٰق ڈار کے خلاف جن دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے ان کی تصدیق ہونے کے بعد 14 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز