پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کا عوامی رابطہ قافلہ لاہور کیلئے روانہ

Aug 09, 2017 07:06 PM IST | Updated on: Aug 09, 2017 07:06 PM IST

اسلام آباد: پاکستان میں غیر اعلانیہ اثاثوں کے معاملے میں سپریم کورٹ کی جانب سے نااہل قرار دیے جانے کے بعد وزارت عظمیٰ سے معزول ہونے والے نواز شریف اسلام آباد سے اپنے آبائی شہر لاہور کے لئے قافلے کے ساتھ روانہ ہوئے ہیں۔ ان کا یہ عوامی رابطہ قافلہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اپنی سیاسی پاور کا چیلنج پیش کرنے کے لئے ہے۔ مسٹر نواز شریف نے اپنے قریبی معتمدوں کے یہ خدشہ ظاہر کئے جانے کے باوجود کہ اس طرح کی ریلی میں انہیں اور دیگر شرکاء کو سکیورٹی خطرات درپیش ہوسکتے ہیں، عوامی یکجہتی کے اظہار کے لئے یہ قافلہ شروع کیا ہے۔ اسلام آباد سے لاہور کی مسافت تقریبا 380 کلومیٹر ہے۔ جی ٹی روڈ سے اس مسافت کو طے کرنے میں دو یا تین دن لگ سکتے ہیں۔

میاں نواز شریف اسلام آباد میں واقع پنجاب ہاؤس کے عقبی دروازے سے صبح 11 بجے کے بعد روانہ ہوئے ، جس سے مرکزی دروازے پر انہیں رخصت کرنے کے لیے آنے والے کارکنوں کو مایوسی ہاتھ لگی۔ پنجاب ہاؤس سے روانہ ہونے سے قبل صحافیوں سے بات کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ 'شہباز شریف پنجاب کی جان اور پاکستان کی شان ہیں، انہوں نے پنجاب کو دیگر صوبوں کے لیے رول ماڈل بنایا ہے ۔

پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کا عوامی رابطہ قافلہ لاہور کیلئے روانہ

مسٹر نواز شریف نے اپنی پارٹی کے لیڈرں، وکیلوں اور میڈیا سے ملاقاتوں میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر اپنی ناراضگی ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بدعنوانی کے الزامات ثابت نہيں ہوئے ہيں اور اس طرح کے الزامات کی بنیاد پر انہیں نااہل قرار دینا درست نہيں ہے۔ میاں نواز شریف کی پارٹی کو قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل ہے اور پارٹی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد چار دنوں کے اندر ہی مسٹر شاہد خاقان عباسی کو عبوری وزير اعظم منتخب کیا ہے، جو آئندہ سال ہونے والے عام انتخابات تک برقرار رہیں۔ میاں نواز شریف کے برادر شہباز شریف ہی اب پارٹی میں ان کے جانشیں ہوں گے، کیونکہ کے پاکستانی قانون میں معتوب لیڈروں کے قائدانہ رول کی ممانعت ہے۔ نواز شریف کی روانگی سے قبل وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے نواز شریف کو گلے لگا کر الوداع کہا۔

اس سے قبل پنجاب ہاؤس میں پاکستان مسلم لیگ ن کا مشاورتی اجلاس ہوا جس میں ریلی کے روٹ کے حوالے سے مشاورت کی گئي اور نون لیگ کی جانب سے آج کے دن کو نوازشریف سے اظہار یکجہتی کا دن قرار دیا گيا۔ قافلے میں شامل وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ رہنماؤں کے ساتھ ساتھ ریلی کے شرکاء کی سکیورٹی یقینی بنانے کے تمام انتظامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 'میرے خیال میں قافلہ 2 سے 3 دن میں لاہور پہنچ جائے گا۔

اطلاعات کے مطابق نواز شریف جہلم میں لیگی کارکنان سے خطاب کریں گے اور رات کو ندی کے کنارے واقع ہوٹل میں قیام کریں گے۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بھی اپنے ٹوئٹر پیغام میں نواز شریف کی ریلی کو ان کا بنیادی حق قرار دیا۔اپنی ٹوئیٹ میں ان کا کہنا تھا کہ 'عوام سے رابطہ قائم رکھنا سیاسی پارٹی کا بنیادی حق ہے، لوگوں کے اعتماد سے نواز شریف کو تحریک ملتی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز