کلبھوشن جادھو معاملہ میں عالمی عدالت کے فیصلہ سے پاکستانیوں میں مایوسی ، اپنی ہی حکومت کی نکتہ چینی

May 18, 2017 07:46 PM IST | Updated on: May 18, 2017 07:47 PM IST

اسلام آباد : عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) کی جانب سے ہندوستان کے مبینہ جاسوس کلبھوشن کی سزائے موت پر عمل درآمد روکے جانے کے حکم پر پاکستانی تجزیہ کاروں نے حیرانی اور مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ ڈان نیوز کے مطابق فیصلے سے قبل پاکستانی تجزیہ کار پر اعتماد تھے کہ آئی سی جے کلبھوشن کی سزائے موت پر عمل درآمد روکنے کا اختیار نہیں رکھتا تاہم اب مبصرین یہ کہہ رہے ہیں کہ دائرہ اختیار کے سلسلے میں دیے جانے والے دلائل کمزور اور نقصان دہ تھے۔

جسٹس (ر) شائق عثمانی نے کہا کہ یہ فیصلہ حیران کن ہے کیوں کہ ’یہ آئی سی جے کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا‘۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے آئی سی جے میں پیش ہوکر غلطی کی، ’جب تک آئی سی جے اپنا فیصلہ نہیں دیتی، یہ کیس پاکستان میں چلتا رہے گا البتہ کلبھوشن کو پھانسی نہیں دی جاسکتی کیوں کہ عدالت نے حکم امتناع دے دیا ہے‘۔

کلبھوشن جادھو معاملہ میں عالمی عدالت کے فیصلہ سے پاکستانیوں میں مایوسی ، اپنی ہی حکومت کی نکتہ چینی

تجزیہ کار زاہد حسین کا کہنا ہے کہ ممالک عالمی عدالت انصاف اور بین الاقوامی اداروں کے فیصلوں پر عمل درآمد کے پابند نہیں ہوتے البتہ بین الاقوامی قوانین کے تحت ایک اخلاقی ذمہ داری ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ابھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ عالمی عدالت انصاف نے ہندوستان کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے بلکہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ عدالت نے ابھی محض پھانسی پر عمل درآمد روکنے کا حکم دیا ہے اور پاکستان کے دائرہ اختیار کے اعتراض کو مسترد کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی عدالت انصاف کے دائرہ اختیار کو امریکا سمیت کئی ممالک نہیں مانتے، ہم یہ فیصلہ کر سکتے تھے کہ اس مقدمے میں غیرحاضر ہو جاتے۔زاہد حسین نے کہا کہ یہ بات بحث طلب ہے کہ آیا پاکستان کو آئی سی جے میں جانا چاہیئے تھا یا نہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’جیسا کہ میں نے پہلے ہی کہا تھا، پاکستان کو آئی سی جے میں نہیں جانا چاہیے تھا‘۔ بیرسٹر راشد نے کہا کہ ’پاکستان کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ وہاں اپنا جج مقرر کرتا لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا، میرا خیال ہے پاکستان تیار نہیں تھا، شائد ہمارے پاس وقت زیادہ نہیں تھا‘۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیئر رہنما شیری رحمان نے کہا کہ ’ہم نے اپنے کیس میں آئی سی جے کے دائرہ اختیار کو بنیاد بنایا جو کہ کمزور ثابت ہوا، جاسوسی سے متعلق مزید دلائل دیے جانے چاہیے تھے‘۔ بیرسٹر ڈاکٹر فروغ نسیم نے کہا کہ پاکستان کو کلبھوشن کے معاملے پر آئی سی جے کے دائرہ اختیار کو تسلیم ہی نہیں کرنا چاہیے تھا۔

سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر نے کہا کہ انہیں فیصلہ سن کر شدید دھچکہ لگا ہے۔انہوں نے کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ یہ فیصلہ فطری انصاف کے اصول کی خلاف ورزی ہے، مجھے حیرانی ہے کہ پاکستان کیوں وہاں گیا اور جلد بازی میں اپنا موقف بیان کیا‘۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جو وکلاء اس معاملے کی پیروی کررہے ہیں انہیں کوئی تجربہ نہیں ، دلائل میں بھی کوئی وزن نہیں تھا، انہیں معقول طریقے سے اپنا کیس پیش کرنا چاہیے تھا‘۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز