پاناما کیس : جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف ، کہا : پائی پائی کا حساب دے دیا

Jun 15, 2017 06:38 PM IST | Updated on: Jun 15, 2017 06:38 PM IST

اسلام آباد: پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف سے پاناما پیپرس کیس کی انکوائری کے لئے قائم مشترکہ تفتیشی ٹیم (جے آئی ٹی)نے ان پر اور ان کے خاندان پر عائد بدعنوانی کے الزامات کے سلسلے میں آج تقریباَ دو گھنٹے تک پوچھ گچھ کی۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب کسی وزیر اعظم کو جانچ ایجنسی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔مسٹر شریف صبح تقریباَ گیارہ بجے جے آئی ٹی کے سامنے حاضر ہوئے ۔ ان سے تقریباَ دو گھنٹے تک پوچھ گچھ کی گئی۔ ان کے ساتھ ان کے بھائی شہباز شریف اور ان کا ایک بیٹا بھی تفتیشی ایجنسی کے دفتر پہنچا۔

جے آئی ٹی میں پیشی اور تقریباً 3 گھنٹوں کی پوچھ گچھ کے بعد جوڈیشل اکیڈمی کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 'میں جے آئی ٹی کے سامنے اپنا مؤقف پیش کرکے آیا ہوں، میرے تمام اثاثوں کی تفصیلات متعلقہ اداروں کے پاس پہلے سے موجود ہیں، میں نے آج پھر تمام دستاویزات جے آئی ٹی کو دے دی ہیں'۔ان کا کہنا تھا کہ 'آج کا دن آئین اور قانون کی سربلندی کے حوالے سے سنگ میل کا درجہ رکھتا ہے'۔ وزیراعظم نے مزید کہا 'میں اور میرا پورا خاندان اس جے آئی ٹی اور عدالت میں سرخرو ہوں گے'، ساتھ ہی انھوں نے سوال کیا کہ 'ملک میں کوئی ایسا خاندان ہے جس کی تین نسلوں کا حساب ہوا ہو؟'

پاناما کیس : جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف ، کہا : پائی پائی کا حساب دے دیا

پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف: گیٹی امیجیز

ان کا کہنا تھا کہ اگر پاناما پیپرز کا معاملہ سامنے آنے کے بعد قومی اسمبلی میں گذشتہ سال کی میری دی گئی تجویز پر عمل کرلیا جاتا تو پاناما کیس کا معاملہ یہاں تک نہ پہنچتا۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ شریف خاندان کا احتساب ہوا ہو، اس سے قبل احتساب کا سلسلہ 1966 سے شروع ہوا، ’میرا پہلا احتساب 1972 میں ہوا تھا، ہمارا احتساب مشرف کی آمرانہ حکومت نے بھی کیا، الزامات میں صداقت ہوتی تو مشرف کوجھوٹے الزام کا سہارا نہ لینا پڑتا'۔

وزیراعظم نواز شریف نے دعویٰ کیا کہ' ہمارے دامن پر نہ پہلے کبھی کرپشن کا داغ تھا اور نہ اب ایسا ہوگا'، انھوں نے کہا کہ 'میں پنجاب کا وزیراعلیٰ بھی رہا ہوں، مجھے 20 کروڑ عوام نے تیسری مرتبہ ملک کا وزیراعظم منتخب کیا ہے اور میرے حالیہ دور میں اتنی سرمایہ کاری ہوئی جتنی گزشتہ 65 سال میں بھی نہیں ہوئی، مجھ پر بدعنوانی یا کرپشن کا کوئی الزام نہیں ہے'۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ صورت حال میں بھی ہم پر کرپشن کا الزام نہیں ہے بلکہ ہمارے خاندان اور ذاتی کاروبار پر الزامات لگائے جارہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ چند دن میں جے آئی ٹی کی رپورٹ اور عدالتی فیصلہ بھی آجائے گا، اس کے بعد 20 کروڑ عوام کی جے آئی ٹی بھی لگنے والی ہے، ’ایک بڑی جے آئی ٹی عوام کی عدالت میں بھی لگنے والی ہے جس میں ہم سب کو پیش ہونا ہے، وقت آگیا ہے کہ حق اور سچ کا علم بلند ہو‘۔ وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں آج صرف اس لیے جوڈیشل کمیشن میں پیش ہوا ہوں کہ ہم سب عدالت کے سامنے جوابدہ ہیں، عوام 2013 سے زیادہ 2018 میں ہمارے حق میں فیصلہ کریں -

وزیرِ اعظم کی پیشی پر تبصرہ کرتے ہوئے نون لیگ کے مرکزی رہنما سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ ، ’’آج ایک منتخب وزیرِ اعظم نے اس جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوکر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ قانون کی حکمرانی اور اداروں کی توقیر و تعظیم پر یقین رکھتے ہیں۔ ایک طرف تیسری بار منتخب ہونے والے وزیرِ اعظم جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو رہے ہیں اور دوسری طرف عمران خان اشتہاری ہونے کے باوجود مزے سے گھوم رہے ہیں۔ کوئی یہ سوال نہیں اٹھا رہا ہے کہ وہ عدالت میں پیش کیوں نہیں ہو رہے۔‘‘

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز