انٹرنیٹ کی آزادی میں پاکستان لگاتار چھٹے سال بدترین ملک قرار : رپورٹ

فریڈم ہاؤس اور ڈیجیٹل رائٹس فائونڈیشن( ڈی آر آیف) کی رپورٹ میں 65 ممالک میں انٹرنیٹ کی آزادی کا جائزہ لیا گیا۔

Nov 15, 2017 08:41 PM IST | Updated on: Nov 15, 2017 08:41 PM IST

اسلام آباد: انٹرنیٹ کی آزادی کے حوالے سے پاکستان کو لگاتار چھٹے سال بدتر ملک قرار دیا گیا ہے۔روزنامہ ڈان نے فریڈم ہاؤس کی 2017 کی نیٹ رپورٹ فریڈم کے حوالے سےخبر دی ہے کہ فریڈم ہاؤس اور ڈیجیٹل رائٹس فائونڈیشن( ڈی آر آیف) کی رپورٹ میں 65 ممالک میں انٹرنیٹ کی آزادی کا جائزہ لیا گیا۔اس رپورٹ میں جون 2016 سے مئی 2017 کے درمیان پیش آنے والے واقعات کا جائزہ لیا گیا۔مجموعی درجہ بندی کی بات کی جائے تو پاکستان 100 بدترین ممالک میں گزشتہ سال کے مقابلے میں مزید دو قدم نیچے یعنی 71 ویں نمبر پر آگیاہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ قبائلی علاقہ جات (فاٹا) میں ایک سال سے زائد عرصے تک موبائل انٹرنیٹ سروس بند رہی، جس کا آغاز جون 2016 میں ہوا تھا۔ستمبر 2016 میں ایک نوجوان کو مبینہ طور پر فیس بیک پر توہین آمیز مواد لائک کرنے پر گرفتار کیا گیا، رپورٹ میں بتایا گیا کہ عدالت نے رواں سال جون میں ایک اور فیس بک پر مبینہ توہین آمیز مواد شائع کرنے کے مقدمے میں ایک شخص کو سزائے موت سنائی۔

انٹرنیٹ کی آزادی میں پاکستان لگاتار چھٹے سال بدترین ملک قرار : رپورٹ

ڈان کے مطابق رپورٹ میں کہا گیاہے کہ پانچ بلاگرز کو جنوری میں اسلامی انتہا پسندوں اور انتظامیہ پر تنقید کرنے پراغوا کیا گیا، جبکہ بعد میں کہا گیا کہ انہیں حکومتی ادارے کی جانب سے تحویل میں لیا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ہیکرز کی جانب سے حکومت پر نکتہ چینی کرنےوالوں کو نشانہ بنانے اور ذرائع ابلاغ کی بڑی ویب سائٹ پر حملہ کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق انٹرنیٹ آزادی کے حوالے سے 2017 میں پاکستان کا درجہ 2016 کے مقابلے میں مزید خراب رہا، 2016 میں پاکستان 25 میں سے 18 ویں نمبر پر تھا جبکہ 2017 میں یہ نمبر 19 ہوگیاہے۔صارفین کے حقوق کی خلاف ورزی کے حوالے سے پاکستان 2016 میں جہاں 31 ویں نمبر پر تھا وہیں 2017 میں 32 ویں درجے پر پہنچ گیاہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز