پاکستان کی عدالت نے ہندوستانی شہری عظمٰی کو ہندستان واپس جانے کی اجازت دی

May 24, 2017 12:46 PM IST | Updated on: May 24, 2017 12:46 PM IST

اسلام آباد۔ پاکستان کی ایک عدالت نے آج ہندستانی شہری عظمی کو ہندستان واپس جانے کی اجازت دے دی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے عظمی اور اس کے شوہر طاہر علی کی جانب سے دائر عرضی کی سماعت کرتے ہوئے عظمی کو ہندستان واپس جانے کی اجازت دے دی ہے۔ عظمی نے ہندستان لَوٹنے کی عرضی داخل کی تھی جبکہ طاہر علی نے اپنی بیوی سے ملاقات کرنے کی اجازت طلب کی تھی۔ عدالت نے حکم جاری کیا کہ عظمی ہندستان واپس جانے کیلئے آزاد ہیں اور انہیں واگھہ بارڈر تک سیکورٹی فراہم کرائی جائے گی۔ جسٹس اختر نے سماعت کے دوران کہا کہ اگر وہ چاہے تو شوہر سے بات کرسکتی ہے لیکن عظمی نے بات کرنے سے انکار کردیا۔ ہندستانی شہری عظمیٰ اور پاکستانی شہری طاہر علی کی شادی کے تنازع پر دائر درخواستوں کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہوئی تھی۔

سماعت کے لیے ہندستانی شہری عظمیٰ کو سخت سکیورٹی میں اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچایا گیا جبکہ عظمیٰ کمرہ عدالت میں گر کر بے ہوش بھی ہوگئی تھی۔ عظمیٰ کے وکيل نے بتايا کہ شديد ذہنی دباؤ کے باعث عظمٰی کی حالت خراب ہوئی تھی، عدالت کی ڈسپنسری میں طبی معائنہ کیا گیا جس کے بعد ہندستانی شہری عظمی عدالت سے واپس روانہ ہوئی۔ طاہر علی کی درخواست پر جب عدالت نے عظمیٰ سے استفسار کیا کہ کیا وہ اپنے شوہر سے ملاقات کرنا چاہتی ہے تو عظمیٰ نے کہا کہ وہ اس سے بات نہیں کرنا چاہتی۔ اس کے بعد عدالت نے کہا کہ اگر عظمیٰ ملاقات کرنا نہیں چاہتی تو کوئی زبردستی نہیں کرسکتا۔ عدالت نے عظمٰی کو آزادانہ بيان ريکارڈ کرانے کی ہدايت کرتے ہوئے کہا کہ يہ معاملہ بيوی اور شوہر کے درميان کا ہے اگر عظمیٰ شوہرسے بات کرنا چاہتی ہے تو کسی کواعتراض نہيں ہونا چاہيے۔

پاکستان کی عدالت نے ہندوستانی شہری عظمٰی کو ہندستان واپس جانے کی اجازت دی

ہندوستانی شہری عظمیٰ نے کہا کہ طاہر نے زبردستی نکاح نامہ پر اس سے دستخط کرائے تھے: فائل فوٹو

عدالت نے عظمٰی کی بيٹی کی ميڈيکل رپورٹ کومدنظررکھتے ہوئے ہندستان جانے کی اجازت ديتے ہوئے سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی۔ عظمٰی کے وکيل نے ميڈيا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ عظمٰی شادی کوہی نہيں مانتی توملاقات کی بات تو ممکن نہیں۔

طاہر علی کے وکیل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے آڈر کیا ہے کہ عظمٰي ہندستان جا سکتی ہے لیکن کہیں بھی نہیں کہا کہ یہ نکاح نامہ جعلی ہے،ہم کیس کو مزید آگے چلانا چاہتے ہیں۔ دوران سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے عظمیٰ سے کہا کہ وہ کمرہ عدالت میں دھوپ کے چشمے نہ لگائیں اور انہیں اتار دیں۔ واضح رہے کہ ہندستانی خاتون عظمیٰ نے 3 مئی کو بونیر کے رہائشی طاہر علی سے شادی کی اور پھر 5 مئی کو اسلام آباد میں موجود ہندستانی ہائی کمیشن گئی جہاں اس نے پناہ لے لی تھی اور وطن واپس جانے کی درخواست کی تھی۔

عظمیٰ کا دعویٰ ہے کہ شادی کے بعد اسے معلوم ہوا کہ طاہر علی پہلے سے شادی شدہ ہے جبکہ اس کے چار بچے بھی ہیں، اس کے علاوہ عظمیٰ نے گن پوائنٹ پر شادی، جسمانی، ذہنی، جنسی تشدد اور دستاویز چھینے جانے کے الزامات بھی عائد کیے تھے۔ تاہم طاہر نے ان تمام الزامات کو مسترد کردیا تھا اور کہا تھا کہ عظمیٰ کو شادی سے قبل ہی معلوم تھا کہ وہ شادی شدہ ہے۔ بعد ازاں یہ اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں کہ عظمیٰ خود بھی طلاق یافتہ ہے اور اس کی ایک بچی بھی ہے۔ 19 مئی کو عظمیٰ نے طاہر علی سے شادی سے متعلق اپنا موقف اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش کیا تھا۔ چھ صفحات پر مشتمل جواب بیرسٹر شاہنواز کے ذریعے جمع کرایا گیا جبکہ ہندستانی ہائی کمیشن کے فرسٹ سیکریٹری پیوش سنگھ جواب جمع کراتے وقت وہاں موجود تھے۔

عدالت میں جمع کرائے گئے جواب میں طاہر علی کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے عظمیٰ کا کہنا تھا کہ نکاح نامے پر ان کے زبردستی دستخط کرائے گئے، جبکہ درخواست گزار طاہر کا حلف نامہ جھوٹ پر مبنی ہے۔ جواب میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ عظمیٰ کے ویزے کی مدت 30 مئی کو ختم ہو رہی ہے، اس لیے عدالت سے استدعا ہے کہ اسے ہندستان جانے کی اجازت دی جائے۔ اس ماہ کے آغاز میں خیبر پختونخوا کے رہنے والے طاہر علی کے ساتھ شادی کرنے کے بعد 22 سالہ عظمی کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہندستانی ہائی کمیشن کو ملی تھی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز